پراسرار نمونیا, کس نے کس سے کیا سیکھا


اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)مغرب میں ایشیائی ممالک جیسے اقدامات پر محدود انداز میں عمل کیا جا رہا ہے مگر اہم بات یہ ہے کہ زیادہ تر ممالک نے اتنی جلد عمل نہیں کیا جتنا کرنا چاہیے تھا۔پہلا سبق: اسے سنجیدگی سے لیں اور فوری اقدامات کریں طبی ماہرین کا ایسی وبا کو روکنے کے طریقوں پر اتفاق پایا جاتا ہے: جن میں وسیع پیمانے پر ٹیسٹ، متاثرہ افراد کو علیحدہ کرنا اور سماجی دوری کی حوصلہ افزائی کرنا شامل ہیں۔ مغرب میں اب اس طرح کے اقدامات پر مختلف انداز میں عمل کیا جا رہا ہے مگر اہم بات یہ ہے کہ زیادہ تر ممالک نے اتنی جلد عمل نہیں کیا جتنا کرنا چاہیے تھا۔عالمی ادارہ صحت میں ریسرچ پالیسی کے سابق ڈائریکٹر ٹکی پنگیستو کہتے ہیں کہ ‘امریکہ اور برطانیہ نے موقع گنوا دیا۔ ان کے پاس چین کو دیکھتے ہوئے دو ماہ تھے، مگر اس کے باوجود وہ یہ سوچتے رہے کہ ‘چین بہت دور ہے اور انھیں کچھ نہیں ہو گا۔‘چین نے 31 دسمبر کو عالمی ادارہ صحت کو ’سارس جیسے پراسرار نمونیا‘ کے کیسز کی اطلاع دی تھی۔ اس وقت تک اس کے انسان سے انسان میں منتقل ہونے کا کوئی مصدقہ کیس موجود نہیں تھا۔ وائرس کے حوالے سے بھی کم ہی معلومات دستیاب تھیں مگر تین دن کے اندر اندر سنگاپور، تائیوان اور ہانگ کانگ نے تمام سرحدی پوائنٹس پر

سکریننگ میں اضافہ کر دیا۔ تائیوان نے تو ووہان سے آنے والی پروازوں میں لوگوں کے طیارے سے اترنے سے پہلے ہی سکریننگ شروع کر دی۔جیسے جیسے سائنسدانوں نے وائرس کے بارے میں مزید جانا تو یہ واضح ہو گیا کہ وہ لوگ بھی انفیکشن پھیلانے کا سبب بن سکتے ہیں جن میں علامات ظاہر نہیں ہوتیں، چنانچہ ٹیسٹنگ اہم قرار پائی۔دوسرا سبق: ٹیسٹوں کی قیمت میں کمی اور وسیع پیمانے پر انتظامجنوبی کوریا میں ابتدائی طور پر کورونا وائرس کے کیسز میں اضافہ ہوا مگر اس نے فوراً ہی وائرس کے لیے ایک ٹیسٹ تیار کر لیا جس کے ذریعے اب تک دو لاکھ 90 ہزار لوگوں کا ٹیسٹ کیا جا چکا ہے۔ وہاں روزانہ تقریبا دس ہزار ٹیسٹ مفت کیے جاتے ہیں۔نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور میں نئے انفیکشنز کے ماہر پروفیسر اووئی اینگ ایئونگ کہتے ہیں کہ ’جس طرح انھوں نے سخت اقدامات کیے اور عوام کی سکریننگ کی، وہ نہایت متاثر کُن تھا۔‘جنوبی کوریا میں انفیکشن پھیلانے والی بیماریوں کے ٹیسٹ کرنے کے لیے ایک نظام پہلے سے موجود تھا جسے سنہ 2015 میں 35 لوگوں کی جان لینے والی بیماری مڈل ایسٹ ریسپائریٹری سنڈروم (مرس) کے پھیلاؤ کے بعد قائم کیا گیا تھا۔اس کے برعکس امریکہ میں ٹیسٹنگ میں تاخیر کی گئی۔ ابتدائی ٹیسٹنگ کٹس میں نقائص تھے اور نجی لیبارٹریوں کے لیے اپنے ٹیسٹ منظور کروانا مشکل تھا۔ کئی لوگ ٹیسٹ کروانے کی جدوجہد کرتے رہے، پر وہ بہت مہنگے تھے۔ بالآخر ہر کسی کے لیے مفت ٹیسٹنگ کا قانون پاس کر دیا گیا۔اس دوران برطانیہ نے کہا ہے کہ صرف ہسپتالوں میں داخل افراد کا ہی باقاعدگی سے ٹیسٹ کیا جائے گا، جس سے کم علامات رکھنے والے افراد کے کیسز کی نشاندہی کرنا مشکل ہو گیا۔پروفیسر پنگیستو تسلیم کرتے ہیں کہ کچھ ممالک میں ٹیسٹنگ کٹس وافر تعداد میں موجود نہیں۔ مگر وہ وسیع پیمانے پر ٹیسٹنگ کو ’سب سے اہم ترجیح‘ قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’جن لوگوں میں علامات ہیں مگر وہ ہسپتالوں میں داخل نہیں اور ابھی تک وائرس پھیلا رہے ہیں، ان کی ٹیسٹنگ کرنا اور بھی زیادہ اہم ہے۔

‘تیسرا سبق: نشاندہی کریں اور علیحدہ کریں صرف ان لوگوں کی ٹیسٹنگ کرنا کافی نہیں ہے جن لوگوں میں علامات ہوں، بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ ان لوگوں کی نشاندہی کی جائے جن سے وہ ملاقات کرتے رہے ہیں۔سنگاپور میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایسے 6000 افراد کا پتا چلایا ہے۔ انھیں سی سی ٹی وی فوٹیجز کی مدد سے ڈھونڈا گیا، ان کے ٹیسٹ کیے گئے اور انھیں خود کو تنہائی میں رکھنے کا حکم دیا گیا تب تک کہ جب تک ان کے نتائج منفی نہ آ جائیں۔ ہانگ کانگ میں کسی شخص میں علامات ظاہر ہونے سے دو دن قبل تک جتنے بھی لوگوں نے متاثرہ شخص سے ملاقات کی ہو ان کا پتا چلایا جا رہا ہے۔انھوں نےایسےاقدامات اپنائے ہیں جن سے خود ساختہ تنہائی میں رہنے والے افراد کے بارے میں یقینی بنایا جا سکے کہ وہ اپنے اپنے گھروں پر ہیں۔ہانگ کانگ میں بیرونِ ملک سے آنے والوں کو اپنی نقل و حرکت سے حکام کو آگاہ رکھنے کے لیے برقی کڑے پہننے کا کہا گیا ہے۔ جبکہ سنگاپور میں خود ساختہ تنہائی اپنانے والوں کو روزانہ کئی مرتبہ رابطہ کیا جاتا ہے اور ان سے اپنی علاقے میں موجودگی کا ثبوت دینے کے لیے تصویریں بھیجنی ہوتی ہیں۔سنگاپور میں ’گھر پر رکنے‘ کے احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں پر بھاری جرمانے اور قید کی سزائیں عائد کی جا رہی ہیں۔ خلاف ورزی کرنے والے ایک شخص کی سنگاپور میں مستقل رہائش منسوخ کر دی گئی ہے۔کئی مغربی ممالک کو اپنی بڑی آبادیوں اور زیادہ شہری آزادیوں کی وجہ سے ایسے اقدامات کے نفاذ میں مشکل ہو سکتی ہے۔پروفیسر اووئی کہتے ہیں کہ ’ہم نے جو کچھ کیا وہ اس لیے کر سکے کیونکہ ہم ایک چھوٹا ملک ہیں۔ ہمارے اقدامات کو مکمل طور پر نقل کرنا ناقابلِ فہم ہو گا، اسے ہر ملک کے حساب سے اپنانا ہو گا۔‘چوتھا سبق: فوری طور پر سماجی دوری وبا پر قابو پانے کے لیے سوشل ڈسٹینسنگ یعنی سماجی دوری کو بہترین طریقوں میں سے ایک تصور کیا جاتا ہے۔ےمگر یہ اقدامات جتنی دیر سے متعارف کیے جائیں گے، انھیں اپنا کام دکھانے کے لیے اتنا ہی سخت تر ہونا پڑے گا۔چین کے شہر ووہان میں جہاں سے وائرس شروع ہوا، وہاں لاک ڈاؤن شروع ہونے سے قبل 50 لاکھ لوگ شہر چھوڑ چکے تھے۔ اس کی وجہ سے حکومت نے انسانی تاریخ کا سب سے بڑا قرنطینہ کا نفاذ کیا۔اٹلی اور سپین میں کیسز کی تعداد ہزاروں میں جانے کے بعد وہ لاک ڈاؤن متعارف کرنے پر مجبور ہوئے۔ نیویارک اور کیلیفورنیا نے شہریوں کو گھر پر رکنے کا حکم دیا ہے اور استثنیٰ صرف سودا سلف خریدنے کے لیے ہے۔اس کے برعکس سنگاپور میں ابھی تک سکول کھلے ہیں لیکن بڑے عوامی اجتماعات منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ ہانگ کانگ میں سکول بند کر دیے گئے ہیں اور لوگوں کو گھروں سے کام کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے مگر ریستوران اور بار ابھی تک کھلے ہیں۔پروفیسر اووئی کا مانناہے کہ فرق یہ ہے کہ حکومتوں کی جانب سے سماجی دوری نافذ کرنے میں کتنی جلدی کی جاتی ہے۔’جب تک زیادہ تر ممالک نے کنٹرول کے اقدامات میں

سختی کی، تب تک کیسز کی تعداد اتنی بڑھ چکی تھی کہ غیر معمولی اقدامات کی ضرورت پیدا ہو گئی۔‘سماجی دوری کا تعلق حکومت کی جانب سے اجتماعات پر پابندی اور تعلیمی ادارے بند کرنے سے تو ہے، مگر یہ لوگوں کی جانب سے اس میں شریک ہونے کی خواہش پر بھی منحصر ہے۔ اس لیے عوامی رابطہ کاری اور انفرادی رویہ نہایت اہم ہیں۔پانچواں سبق: عوام کو آگاہ اور اپنے ساتھ رکھیں پروفیسر پنگیستو کہتے ہیں کہ ’جب تک آپ کو عوام کا تعاون حاصل نہ ہو، تب تک آپ کی پالیسیوں پر شاید عمل نہ کیا جائے اور عملدرآمد محدود ہی رہے۔ اہم چیز یہ دکھانا ہے کہ پالیسیاں سائنسی ثبوتوں پر مبنی ہوں۔‘چین پر وبا کے اعتراف میں سستی کرنے پر شدید تنقید ہوئی۔ اس نے خدشات کے باوجود ووہان میں ایک بڑا سیاسی اجتماع ہونے دیا۔ حکام نے ان ڈاکٹروں کو سزا بھی دیں جنھوں نے دوسروں کو خبردار کرنے کی کوشش کی تھی اور جب ان میں سے ایک ڈاکٹر وائرس سے ہلاک ہوگئے تو غم و غصہ دیکھنے میں آیا۔لیکن جب سے چین نے وائرس کو روکنے کے لیے وسیع پیمانے پر لاک ڈاؤن نافذ کرکے اپنے ہسپتالوں کی استعداد کار بڑھائی ہے تب سے اس کی تعریف بھی ہوئی ہے مگر ناقدین کا کہنا ہے کہ ان انتہائی اقدامات کی ضرورت صرف اس لیے پڑی کیونکہ ابتدائی ردِعمل نہایت سست تھا۔امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کئی مرتبہ طبی حکام سے وبا کی شدت اور دستیاب کٹس کی تعداد پر اختلاف کرتے نظر آئے ہیں۔ حکومت یہ معلومات بھی نہیں فراہم کر سکی ہے کہ کتنے لوگوں کی ٹیسٹنگ کی گئی ہے کیونکہ کئی نجی لیبارٹریاں اپنا ڈیٹا سی ڈی سی کو نہیں بھیج رہیں۔پروفیسر اووئی کہتے ہیں کہ ’وبا پر ردِ عمل کو شفاف ہونا چاہیے کیونکہ یہی چیز لوگوں کو افراتفری اور ذخیرہ اندوزی سے روکتی ہے۔‘چند حکومتوں نے اپنے عوام کو تفصیل سے آگاہ کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کیا ہے۔ ہانگ کانگ نے تمام کیسز کے لیے ایک آن لائن پورٹل شروع کیا ہے جس میں موجود نقشے میں ان عمارتوں تک کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جہاں یہ کیسز پائے گئے ۔ جنوبی کوریا میں اگر کوئی شخص کسی مریض کے آس پاس ہو تو اسے موبائل الرٹ جاری کر دیا جاتا ہے۔سنگاپور کی حکومت کی کورونا وائرس پر واضح رابطہ کاری کرنے پر تعریف کی جا رہی ہے۔ سنگاپور کے وزیرِ اعظم نے ایک تقریر بھی کی تھی جس میں لوگوں سے افراتفری میں خریداری کرنے سے اجتناب کرنے پر زور دیا گیا تھا۔اس کے اقدامات کو عوام میں خاصی پذیرائی حاصل ہوئی ہے اور اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ سنگاپور ایک طویل عرصے سے قومی سلامتی کے لیے اجتماعی ذمہ داری پر زور دیتا رہا ہے۔اس کے علاوہ سنگا پور کے میڈیا میں سرکاری مؤقف چیلنج کرنے کا رجحان نہیں ہے۔چھٹا سبق: انفرادی رویے بھی نہایت اہم ہیں یہ کہنا سادہ لوحی ہے کہ ایشیائی افراد کے اپنی حکومتوں کے احکامات پر عمل کرنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ ہانگ کانگ میں عوام کا حکومت پر اعتماد بہت کم ہے اور وہاں کئی ماہ سے حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں مگر دنیا کے سب سے گنجان آباد شہروں میں سے ایک میں زیادہ تر لوگوں نے خود کو رضاکارانہ طور پر ایک دوسرے سے دور کر لیا ہے جبکہ کئی لوگوں نے نئے قمری سال کی تقریبات میں بھی شرکت سے اجتناب کیا ہے جو کہ کرسمس کی تقریبات میں شریک نہ ہونے جیسا ہے۔پروفیسر پنگیستو کا خیال ہے کہ کانگ کانگ کے لوگوں کو حکومت پر اعتماد نہیں ہے مگر ’انھیں ہانگ کانگ پر فخر ہے اور وہ اسے اپنے علاقے کو لاحق خطرہ تصور کر رہے ہیں۔‘ایک سروے میں پایا گیا کہ ہانگ کانگ میں 98 فیصد لوگوں نے وبا کے پیشِ نظر ماسک پہنےاس دوران واشنگٹن کے شہر سیاٹل میں مقیم نرس کیرن ہسٹر نے ہانگ کانگ میں کورونا وائرس پر ٹریننگ کے لیے ایک مہینہ گزارا۔ڈاکڑز ود آوٹ بارڈرز کی ایمرجنسی فیلڈ کوارڈینیٹر کیرن ہسٹر نے تقریبا ایک ماہ ہانگ کانگ میں کورونا وائرس کی ٹرینگ پر کام کیا ہے۔اس کے علاوہ ایشیا کے اس حصے میں ماسکس کے استعمال کا بھی کافی رجحان ہے جو ہسٹر کے مطابق ’دوسروں کی عزت کرنے‘ کی علامت ہے۔انھوں نے کہا کہ اکثر لوگ ان کے ساتھ لفٹ میں صرف اس لیے سوار نہیں ہوتے تھے کیونکہ انھوں نے ماسک نہیں پہن رکھا ہوتا تھا۔ اس کے برعکس مغرب میں لوگوں سے کہا گیا ہے کہ جب تک وہ بیمار نہ ہوں تب تک ماسک نہ پہنیں، اور کئی ایشیائی لوگوں کو ماسک پہننے پر ہراساں کیا گیا ہے۔ایشیا میں ماہرین کا اتفاق ہے کہ ہاتھ دھونے جیسے اقدامات کے مقابلے میں ماسک پہننا بہت کم مؤثر ہے لیکن جب ماسک کی دستیابی مسئلہ ہو تو انھیں طبی عملے کے لیے چھوڑ دینا چاہیے۔ مگر کیا ماسک پہننا فائدہ مند ہے یا نہیں، اس حوالے سے مختلف آرا ہیں۔یونیورسٹی آف ہانگ کانگ میں ماہرِ وبائی امراض بنجامن کولنگ کہتے ہیں کہ ’ماسک کورونا وائرس کے خلاف کوئی جادوئی گولی نہیں ہیں، مگر اگر ہر کوئی ماسک پہنے تو یہ ممکنہ طور پر دیگر تمام اقدامات (مثلاً ہاتھ دھونے اور سماجی دوری)کے ساتھ مل کر وائرس کا پھیلاؤ روک سکتے ہیں۔‘’اس کے حق میں ثبوت کم ہیں لیکن ہمیں لگتا ہے کہ اس کا فائدہ ہو گا کیونکہ ہم طبی عملے کو یہی تحفظ دیتے ہیں۔‘لیکن کیرن ہسٹر سماجی دوری کے بارے میں کہتی ہیں کہ ’مجھے لگتا ہے کہ امریکہ میں لوگ بہت انفرادیت پسند ہیں۔ ہمارے لیے اپنی آزادی کی قربانی دینا تھوڑا مشکل ہو گا۔‘اس سے قبل وہ ایبولا کی وبا پر کام کر چکی ہیں اور اس میں بھی لوگوں کو بار بار ہاتھ دھونے اور سماجی دوری اختیار کرنے کی تلقین کی گئی تھی۔ وہ کہتی ہیں کہ سب سے بڑا چیلنج ’لوگوں کو یہ سمجھانا تھا کہ انھیں اپنے طریقے بدلنے کی ضرورت ہے۔‘کیا اس سب سے وائرس رک جائے گاماہرین کو یقین ہے کہ مغربی ممالک میں جو جارحانہ اقدامات کیے جا رہے ہیں وہ بالآخر

انفیکشن پھیلنے کی شرح کو سست کر دیں گے۔ مگر اس کے بعد انھیں کیا چیلنج درپیش ہو گا، اس کے لیے بھی انھیں ایشیا کی طرف دیکھنا چاہیے۔وائرس کو روک لینے کے باوجود چین، جنوبی کوریا، تائیوان، سنگاپور اور ہانگ کانگ کو اب کورونا وائرس کی دوسری لہر کا سامنا ہے جس کی وجہ ان کی سرحدوں سے داخل ہونے والے لوگ بنے ہیں۔اور یہ بھی واضح نہیں ہے کہ یہ وبا کتنا عرصہ جاری رہے گی۔پروفیسر اووئی پرامید ہیں جب لاک ڈاؤن کے دو سے تین ہفتے کے اندر ہوبائی صوبے میں نئے انفیکشنز کی تعداد گھٹنے لگی۔ بھلے ہی چین کا لاک ڈاؤن ‘غیر معمولی’ تھا لیکن ان کا خیال ہے کہ نرم تر اقدامات کرنے والے ممالک بھی چند ہفتوں کے اندر وبا پر قابو پا سکیں گےوہ کہتے ہیں کہ ’یہ دوسرے ممالک کے لیے متاثر کن ہو سکتا ہے۔ یہ دردناک ہے مگر یہ ہو سکتا ہے۔‘لیکن اس کے برعکس پروفیسر کاولنگ کو خدشہ ہے کہ اگر لاک ڈاؤن جلدی ختم ہو گیا تو مقامی طور پر یہ وائرس دوبارہ پھیل سکتا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے نہیں پتا کہ سماجی دوری اتنے عرصے تک قائم رکھی جا سکتی ہے جتنا عرصہ اسے قائم رکھے جانا چاہیے۔ ہم تب تک چین سے نہیں بیٹھ سکتے جب تک کہ ویکسین دستیاب نہ ہو، جس میں 18 ماہ تک لگ سکتے ہیں، مگر ہانگ کانگ میں لوگ دو ماہ کے بعد اب تھکاوٹ کے شکار ہیں۔‘’طویل لاک ڈاؤن معیشت کے لیے تباہ کن ہیں جبکہ وبا پہلے ہی عوامی صحت کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ ہمارے پاس انتخاب کی زیادہ گنجائش نہیں ہے۔‘





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


تازہ ترین خبریں
کرونا وائرس نے اسرائیل میں قیامت برپا کردی
چینی سائنسدانوں کوکو رونا وائرس کے خلاف جنگ میں اہم کامیابی مل گئی
گرمیوں میں کے الیکٹرک کا شارٹ فال 600 میگاواٹ سے زیادہ ہوگا
ہم معاشرے کے کسی طبقے کو عالمی وبا کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے متحمل نہیں ہوسکتے
عالمی بینک پاکستان کو 70 کروڑ ڈالر دے گا
پاکستان میں لاک ڈائون کی مدت میں اضافہ

تازہ ترین ویڈیو
اگر ملک لاک ڈائون نہ ہوا تو پھر کیا ہو سکتا ہے ؟ جاوید چودھری کے ہوشربا انکشافات
ڈاکٹر لی وین لیانگ دنیا کے پہلے طبی ماہر تھے جنہوں نے نوول کرونا دریافت کیا
وبائیں اللہ کیوں نازل کرتاہے،جاوید چوہدی کی خاص تحریر
عورت کو سمجھنا دنیا کا سب سے مشکل کام ہے
پانچ ایسی چیزیں ہیں جو وہ آپ کو کبھی بھی صحیح نہیں بتائے گی

دلچسپ و عجیب
کورونا وائرس کے ذریعے پوری دنیا میں کرفیو
دریا ’’نیل‘‘ کے نیچے زیر زمین کونسا دریا بہتا ہے
جو ں جوں وقت گزرتا جاتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ جو اللہ اوراس کے رسول نے کہا وہی درست ہے
سیاستدان سیاست میں آنے سے پہلے کیا کیا کرتے تھے
کرونا وائرس ,احتیاطوں کے ساتھ یہ تسبیحات روز کی جائیں، انتہائی مفید معلومات
پنڈتوں نے کورونا وائرس سے بھگوان کو بچانے کے لیے اُن کو ماسک پہنا دیا
ہم سب کے موبائل فون ”میرا جسم تیری مرضی“ سے لبالب
ماضی میں عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کے بارے میں کیا کہتے تھے
Copyright © 2017 insafnews.pk All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Discaminer | Contact Us
error: Content is protected !!