10 3

بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والے مجرموں کے لیے پھانسی کی سزا چاہتے ہیں۔۔۔۔ مگر رکاوٹ کہاں پر ہے ؟


لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار انصار عباسی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دیسی لبرلز کے ایک مخصوص طبقے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب وہ ہنگو کی اس بچی کے ماں باپ اور خاندان کو جاکر سمجھائیں کہ اُن کی بچی کے ساتھ زیادتی کرنے اور پھر اُسے درندگی کے ساتھ جان سے مارنے والے کے بھی کچھ انسانی حقوق ہیں، جس کی وجہ سے اُسے سرِعام پھانسی نہیں دی جا سکتی۔اور یہ بھی کہ اگر اُسے سرِعام پھانسی دی تو یہ نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو گی بلکہ ’’تہذیب یافتہ دنیا‘‘ بھی ہمارے بارے میں کہے گی کہ یہ کیسے لوگ ہیں۔یعنی جن درندوں نے مدیحہ اور اس جیسی دوسری کئی معصوم بچیوں اور بچوں کو درندگی کا نشانہ بنایا اور اُنہیں قتل بھی کیا، اُنہیں نشانِ عبرت نہ بنایا جائے کیونکہ اگر اُنہیں سرعام لٹکایا گیا تو اس سے دنیا ہمارے بارے میں کیا سوچے گی کہ پاکستان میں انسانی حقوق پر عمل نہیں کیا جا رہا۔حال ہی میں جب قومی اسمبلی نے ایسے درندوں کو سرِعام پھانسی دینے کی قرارداد پیش کی تو پیپلز پارٹی کے رکنِ قومی اسمبلی اور سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے اس قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے یورپی یونین کے قوانین کی بات کی جبکہ دو حکومتی وزرا‘ فواد چوہدری اور ڈاکٹر شیریں مزاری نے بھی انسانی حقوق اور مغرب کی تہذیب کا حوالہ دے کر اس اقدام کو ردّ کیا۔ہنگو کی بچی کے ساتھ درندگی کا واقعہ قومی اسمبلی کی طرف سے پاس کی گئی قرارداد کے بعد رونما ہوا۔ سوشل میڈیا کے مطابق اسی دوران کراچی میں ایک اسکول کی بچی کو درندگی کا نشانہ بنانے کے بعد پھانسی دے کر (پنکھے کے ساتھ لٹکا کر) قتل کر دیا گیا۔ سوشل میڈیا میں اس بچی کی پھندے سے لٹکی لاش کی تصویریں بھی شیئر کی گئیں۔ایک خبر کے مطابق 2017ء میں بچوں سے زیادتی کے تقریباً ساڑھے تین ہزار واقعات رونما ہوئے جن میں بچوں کو زیادتی کے بعد قتل کرنے کا جرم بھی شامل تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ان واقعات میں کمی کے بجائے اضافہ ہو رہا ہے اور اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ایسے معاشرے میں جہاں درندگی کے واقعات تو تھمنے کا نام نہیں لیتے۔وہاں کوئی درندہ نشانِ عبرت بنتا بھی دکھائی نہیں دیتا۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ قصور کی معصوم زینب کے ساتھ ہونے والے ظلم کے واقعہ کے کوئی دو سال بعد اُس کے نام سے زینب الرٹ نامی قانون تو بنا دیا گیا لیکن اُس میں بھی زیادہ سے زیادہ سزا عمر قید رکھی گئی اور پھانسی کو اس قانون میں شامل نہیں کیا گیا۔اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے دو مرتبہ فروغ نسیم کو کابینہ کے اجلاس کے دوران کہا کہ وہ بچوں، بچیوں کے ساتھ زیادتی کرنے والے مجرموں کے لیے پھانسی کی سزا چاہتے ہیں لیکن جو قانون پاس ہوا اُس میں ایسے مجرموں کو سرِعام لٹکانے کی سزا تو کیا، پھانسی کی سزا بھی نہیں رکھی گئی۔کہا یہ جا رہا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری جو قومی اسمبلی کی ہیومن رائٹس کمیٹی کے چیئرمین ہیں، پھانسی کی سزا یعنی سزائے موت کے خلاف ہیں۔ اب یہ عمران خان صاحب کو چاہیے کہ پتا کرائیں کہ ایک ایسے قانون کی تحریک انصاف اور اُن کی حکومت نے کیوں حمایت کی جس کے مطابق بچوں، بچیوں سے زیادتی کے مجرموں کو پھانسی کی سزا کے بجائے کم از کم دس سال اور زیادہ سے زیادہ عمر قید کی سزا دی جائے گی۔کیا متعلقہ وزیر نے وزیراعظم کا موقف اپنایا یا انسانی حقوق کے نام نہاد چیمپینز، پیپلز پارٹی، کچھ دیسی لبرلز اور یورپی یونین کا کیس لڑا؟ کیا خان صاحب نے اپنی وزیر ہیومن رائٹس اور اپنے وزیر قانون سے پوچھا کہ ایک ایسا قانون کیسے پاس ہو گیا جو اُن کے وژن کے برعکس تھا؟ کہیں ایسی صورتحال تو نہیں کہ عمران خان کی اُن کے وزیر بھی نہیں سنتے



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


تازہ ترین خبریں
16 8
پیپلز پارٹی کا (ق) لیگ کے حوالے سے بڑا فیصلہ
15 10
پہلا روزہ اور عید کب ہوگی
14 11
2023ء میں پاکستان کا وزیر اعظم کون ہوگا؟ بڑی پیشگوئی
13 12
تنخواہوں میں بڑے اضافے کی تیاریاں
12 11
(ن) لیگ کا بلدیاتی اداروں پر کنٹرول بحال
11 11
بلاول بھٹو کو وزیر اعظم بنوانے کی کوششیں تیز

تازہ ترین ویڈیو
23
امت مسلمہ کے ہیرو صلاح الدین ایوبی کے قول کے پیچھے چھپی سچی کہانی
27 2
یہ وہ جھوٹ ہے جوہر لڑکی ضرور بولتی ہے
2
کرونا وبا کب اور کیسے ختم ہو گی ؟ 1400 سال پہلے حضور اکرم ﷺ کی نشاندہی ، جان کر آپ پھولے نہ سمائیں گے
4 7
جھگڑالو بیوی نعمت خدا وندی مگر کیسے
3 9
کیسے لڑکیوں کو خواب دکھا کر تباہ کیا جاتا ہے ایک سچا واقعہ
52394
الطاف حسین نے آخری وقت میں ہندو مذہب کیوں اختیار کیا،کرونا سے ڈر کر یا ہندووں کی محبت میں

دلچسپ و عجیب
15 7
وہ سربراہ جسے دفنانے کیلئے کئی بار قبر کھودی گئی مگر اندر ایک کالاسانپ نکلا
9 1
کرونا وائرس کی وبا کے دوران میاں بیوی ازدواجی تعلقات قائم رکھ سکتے ہیں ؟
20 8
دریا ’’نیل‘‘ کے نیچے زیر زمین کونسا دریا بہتا ہے
Copyright © 2017 insafnews.pk All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Discaminer | Contact Us