19 2

بین الاقوامی نشریاتی ادارے کی رپورٹ نے پوری دنیا میں ہلچل مچا دی


لاہور(ویب ڈیسک) متحدہ عرب امارات نے جب پچھلے ہفتے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تو مسلم دنیا میں کئی طرح کا ردِعمل دیکھنے میں آیا کسی نے اسے فلسطینیوں کے ساتھ دھوکہ کہا تو کوئی اسے تاریخی معاہدہ قرار دیتا رہا اور باخبر حلقوں نے دونوں ریاستوں کے تعلقات میں ”نارملائزیشن‘ ‘کو”فارملائزیشن“ کے طور پر دیکھا اسرائیل اور عرب امارات کے باضابطہ سفارتی تعلقات کا معاہدہ اس قدر سادہ معاملہ نہیں بلکہ اس معاہدے کے بعد خطے میں ایک اور جنگ کے ساتھ ساتھ کئی مسلم ریاستوں میں عرب بالادستوں کے ذریعے فوجی بغاوت کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں سب سے پہلا محرک عرب بادشاہتوں کا خوف ہے جو عرب بہار کے دوران پیدا ہوا. عرب بہار کے دوران بادشاہتوں کو اندازہ ہوا کہ پولیٹیکل اسلام ان کے لیے بڑا خطرہ ہے، اور جبر اور کرپشن کے خلاف کوئی بھی مقبول تحریک ان کی بادشاہتوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہے یہاں تک کہ امریکا جیسی عالمی طاقت بھی اپنے کٹر اتحادی حسنی مبارک کو ایسی تحریک میں کوئی مدد نہ فراہم کرسکی اور اخوان المسلمین کی مقبول تحریک نے اس کا تختہ الٹ دیا پھر اس دوران تیونس، سوڈان سمیت کئی مثالیں ابھر کر سامنے آئیں.بین القوامی نشریاتی ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عرب بہار کے بعد خطے میں سیکیورٹی صورتحال بھی بدلنے لگی امریکا کوشش کے باوجود شام کے صدر بشارالاسد کو ہٹانے میں ناکام رہا سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حملے کے بعد بھی امریکا نے سعودی عرب کی مدد کے لیے کوئی فوجی قدم نہ اٹھایاعرب بادشاہتیں جو اپنی بقا کے لیے امریکا اور یورپی اتحادیوں پر عشروں سے انحصار کرتی آئی ہیں انہیں احساس ہوا کہ اب یہ اتحادی شاید ان کے کام نہ آسکیںایران نے

خطے میں پراکسی جنگ تیز کی اور اسے لبنان، شام اور عراق سے بڑھا کر یمن تک لے گیا، جس کے بعد عرب بادشاہتوں کو خطرے کااحساس بڑھ گیا سابق امریکی صدر بارک اوباما کے دور میں ایران کے جوہری پروگرام پر معاہدے نے عرب ریاستوں میں خوف پیدا کردیا تھا اور انہیں لگا کہ واشنگٹن اب ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ کرنے کے عزم سے پیچھے ہٹ گیا ہے اور ایران کو صرف پابندیوں کے بوجھ تلے دبا کر رکھنا چاہتا ہے.امریکا کے مقابلے میں اسرائیل کی ایران مخالفت میں رتی بھر بھی کمی نہیں آئی اسرائیل ان تمام عرب ریاستوں کو یقین دلاتا رہا ہے جن کے اس سے تقریباً 60 کی دہائی سے خفیہ تعلقات ہیں کہ وہ ایران کے مقابلے میں ان کی مدد کے لیے تیار ہے عرب ریاستیں جو بظاہر اسرائیل کی مخالف اور فلسطینیوں کی ہم نوا تھیں، خفیہ رابطوں میں اسرائیل کے ساتھ سیکیورٹی معاملات میں عملی تعاون کرتی رہیں، اور اسی تعاون کے نتیجے میں لبنان اور شام میں اسرائیل ایرانی مفادات پر بمباری کرتا رہا اور ایران کی جوہری تنصیبات اسرائیلی حملوں کی زد میں رہیں.اسرائیل عرب تعلقات ایک عرصے تک خفیہ رہے لیکن 2009 میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے خفیہ تعلقات کو منظرِ عام پر لانے کی پالیسی اپنائی جس کے بعد تعاون کے چھوٹے چھوٹے سفارتی اقدامات چلتے رہے، اور پھر بڑا قدم اسرائیل نے اس وقت اٹھایا جب انٹرنیشنل رینیوبل انرجی ایجنسی کے ہیڈکواٹرز عرب امارات میں بنانے میں سفارتی مدد کی، لیکن اس کے بدلے ایک شرط یہ رکھی کہ اس کے سفارت کاروں کو ان کے ہیڈکوارٹرز میں تسلیم کرنا پڑے گا.



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


تازہ ترین خبریں
19
پی ٹی آئی نے بلوچستان حکومت سے علیحدگی پر غور شروع کر دیا
18
وزیر اعظم ہاؤس بلا کر عمران خان مجھے کیا کہتے رہے؟ بشیر میمن کے تہلکہ خیز انکشافات
17
بجلی سستی کیے جانے کا امکان
16
نواز شریف کے 3 قریبی ساتھی کس اعلیٰ شخصیت سے ملے؟ بڑی خبر
15
عید کے بعد کیا کرنا ہے؟ حکمت عملی تیار
14
الطاف حسین نے آخری وقت میں ہندو مذہب کیوں اختیار کیا

تازہ ترین ویڈیو
23
امت مسلمہ کے ہیرو صلاح الدین ایوبی کے قول کے پیچھے چھپی سچی کہانی
27 2
یہ وہ جھوٹ ہے جوہر لڑکی ضرور بولتی ہے
2
کرونا وبا کب اور کیسے ختم ہو گی ؟ 1400 سال پہلے حضور اکرم ﷺ کی نشاندہی ، جان کر آپ پھولے نہ سمائیں گے
4 7
جھگڑالو بیوی نعمت خدا وندی مگر کیسے
3 9
کیسے لڑکیوں کو خواب دکھا کر تباہ کیا جاتا ہے ایک سچا واقعہ
52394
الطاف حسین نے آخری وقت میں ہندو مذہب کیوں اختیار کیا،کرونا سے ڈر کر یا ہندووں کی محبت میں

دلچسپ و عجیب
11
دفنانے کیلئے کئی بار قبر کھودی گئی مگر اندر ایک کالاسانپ نکلا
15 7
وہ سربراہ جسے دفنانے کیلئے کئی بار قبر کھودی گئی مگر اندر ایک کالاسانپ نکلا
9 1
کرونا وائرس کی وبا کے دوران میاں بیوی ازدواجی تعلقات قائم رکھ سکتے ہیں ؟
20 8
دریا ’’نیل‘‘ کے نیچے زیر زمین کونسا دریا بہتا ہے
Copyright © 2017 insafnews.pk All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Discaminer | Contact Us