26 3

حکومت نے سابقہ ڈی ایم جی گروپ کا غلبہ ختم کرنے کیلئے 600 آسامیاں ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا


اسلام آباد( نیوز ڈیسک ) سینئر صحافی انصار عباسی کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف نے حکومت نے سابقہ ڈی ایم جی گروپ کا غلبہ ختم کرنے کیلئے 600 آسامیاں ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور یی آسامیاں صوبائی سروسز اور ٹیکنیکل ماہرین کو منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔تفصیلات کے مطابقانصار عباسی نے دی نیوز اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا کہ تحریک انصاف نے حکومت نے سابقہ ڈی ایم جی گروپ کا غلبہ ختم کرنے کیلئے 600 آسامیاں ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور یی آسامیاں صوبائی سروسز اور ٹیکنیکل ماہرین کو منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ایک سینئر سرکاری ماہر کے مطابق سول سروس میں کی جانے والی تازہ ترین اصلاحات کی منظوری وزیراعظم اور کابینہ نے دی ہے، جس کے نتیجے میں سول سروسز میں سنیارٹی اور سفارش کی بجائے کارکردگی اور اہلیت کی بنیاد پرعہدے سب کیلئے کھل جائیں گے۔انصار عباسی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی سطح پر پی اے ایس گروپ سے 200؍ جبکہ صوبائی حصے میں سے 400؍ اسامیاں کیڈر سے خارج کی گئی ہیں۔ منظور کردہ اصلاحات کے مطابق، پی اے ایس کیڈر میں اسامیاں 1900؍ ہیں جن میں 600؍ کی کمی کرکے انہیں 1300؍ کی سطح پر لایا جائے گا۔ان اصلاحات کے نتیجے میں ہرفن مولا کی بجائے اسپیشلائزیشن اور پروفیشنل ازم کا کلچر فروغ پائے گا۔مزید یہ کہ ان اصلاحات کےنتیجے میں بیوروکریسی سے پرانا گند صاف کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ نئی اصلاحات کے نتیجے میں حکومت کارکردگی نہ دکھانے والے اور غیر موثر سرکاری ملازمین کو قبل از وقت یعنی صرف 20؍ سال کی سروس کے بعد ریٹائر کر سکے گی۔ماضی میں 60 سال کی ملازمت کی جاب سیکیورٹی کی وجہ سے مسابقتی عمل کی حوصلہ شکنی ہوتی آرہی ہے لیکن سول سرونٹس کے قوانین میں کی گئی نئی اصلاحات کے تحت 20 سال مسلسل ملازمت کرنے والے سول سرونٹس کے ملازمین کی کارکردگی پر نظرثانی کی جائے گی۔ حس کے بعد سینئر سیکرٹریز اور ایف پی ایس سی کے چیئرمین پرمشتمل کارکردگی جائزہ بورڈ فیصلہ کرے گا کہ سول سرونٹ کی ملازمت برقرار رہ سکے گی یا نہیں.دستاویز میں لکھا ہے کہ یہ کام پہلی مرتبہ کیا جا رہا ہے اور اس کے نتیجے میں صلاحیت میں اضافے اور مقابلے کا ماحول پیدا ہوگا اور نا اہل افسر کا صفایا ہو جائے گا۔ توقع ہے کہ پی اے ایس اور پی ایس گروپ کے افسران اس کی مزاحمت کریں گے اور حکومت کے خلاف نیا محاذ کھلنے کی توقع ہے۔دستاویزات کے مطابق مردوں کوپہلے 5 سال اور خواتین کو 3 سال دوسرے صوبوں میں سروس کرنا ہو گی جس میں سول سرونٹ ایک صوبے میں 10 برس سے زیادہ قیام کرے گا اسے ترقی نہیں دی جائے گی۔ 19 سے 20 گریڈ میں ترقی کے لئے افسران کو ہارڈ ایریاز میں سروس کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے.اسکے علاوہ حکومت نے کارکردگی اور ضابطے کیلئے بھی نئے قواعد و ضوابط کی منظوری دی ہے جن کے تحت مجاز افسران کا Tier ختم کر دیا گیا ہے اور اب انکوائری افسر کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنی انکوائری 60؍ روز میں مکمل کرے۔مجاز اتھارٹی کیس کا فیصلہ 30؍ دن میں کرے گی۔ ان اصلاحات میں نئے جرمانے بھی شامل کیے گئے ہیں جن میں جرمانہ، سابقہ سروسز کی ضبطی اور خرد برد کردہ رقم کی ریکوری شامل ہیں۔



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


تازہ ترین خبریں
16 8
پیپلز پارٹی کا (ق) لیگ کے حوالے سے بڑا فیصلہ
15 10
پہلا روزہ اور عید کب ہوگی
14 11
2023ء میں پاکستان کا وزیر اعظم کون ہوگا؟ بڑی پیشگوئی
13 12
تنخواہوں میں بڑے اضافے کی تیاریاں
12 11
(ن) لیگ کا بلدیاتی اداروں پر کنٹرول بحال
11 11
بلاول بھٹو کو وزیر اعظم بنوانے کی کوششیں تیز

تازہ ترین ویڈیو
23
امت مسلمہ کے ہیرو صلاح الدین ایوبی کے قول کے پیچھے چھپی سچی کہانی
27 2
یہ وہ جھوٹ ہے جوہر لڑکی ضرور بولتی ہے
2
کرونا وبا کب اور کیسے ختم ہو گی ؟ 1400 سال پہلے حضور اکرم ﷺ کی نشاندہی ، جان کر آپ پھولے نہ سمائیں گے
4 7
جھگڑالو بیوی نعمت خدا وندی مگر کیسے
3 9
کیسے لڑکیوں کو خواب دکھا کر تباہ کیا جاتا ہے ایک سچا واقعہ
52394
الطاف حسین نے آخری وقت میں ہندو مذہب کیوں اختیار کیا،کرونا سے ڈر کر یا ہندووں کی محبت میں

دلچسپ و عجیب
15 7
وہ سربراہ جسے دفنانے کیلئے کئی بار قبر کھودی گئی مگر اندر ایک کالاسانپ نکلا
9 1
کرونا وائرس کی وبا کے دوران میاں بیوی ازدواجی تعلقات قائم رکھ سکتے ہیں ؟
20 8
دریا ’’نیل‘‘ کے نیچے زیر زمین کونسا دریا بہتا ہے
Copyright © 2017 insafnews.pk All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Discaminer | Contact Us