حکومت کا احتساب کون کرے گا،سابق جسٹس


کراچی(این این آئی) عام لوگ اتحاد کے چیئرمین جسٹس (ر) وجیہ الدین نے پی ٹی آئی حکومت کو پیٹرولیم مصنوعات کے بڑے اسکینڈل کا ذمہ دار قرار کر دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں کرپشن کا کوئی حساب نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ پیر کو پیرس کی ایک عدالت نے فرانس کے سابق وزیر اعظم، ان کی اہلیہ اور ایک اہم رہنما کو ذاتی مفادات کے حصول اور نیپوٹزم کی بنیاد پر سزائیں سنائی ہیں۔ سابق وزیر اعظم کو 5 برس، ان کی اہلیہ کو 3 برس اور تیسرے مجرم کو 3 برس کی سزا دی گئی ہے۔ واقعات کچھ یوں بتائے جاتے ہیں کہ سابقہ وزیر اعظم نے اپنی اہلیہ کو نمائشی سیکریٹریل کام پر رکھ کر حکومت کو لاکھوں یورو کا نقصان پہنچایا۔ اسی قسم کی اور باتیں بھی وہاں زیر بحث آئیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دیکھیں کہ ہمارے ارد گرد کیا ہو رہا ہے اور بین الاقوامی دنیا میں کیا ہورہا ہے۔ حکمراں اگر تو بے راہ روی کا شکار ہوتے ہیں،

مالیاتی اسکینڈلز میں ملوث ہوتے ہیں تو دنیا کے ممالک میں انہیں سزائیں بھی دی جاتی ہیں۔ ایسا کچھ حال ہی میں اسرائیل اور جنوبی کوریا میں ہوچکا ہے۔ دیگر ممالک میں بھی ایسی مثالیں موجود ہیں۔ تاہم ہمارے ملک میں بدعنوانیوں کا کوئی حساب ہی نہیں ہے۔ پچھلی حکومتوں کی تو بات ہی رہنے دیں۔ موجودہ حکمراں جو ہم پر مسلط ہیں، انہوں نے پیٹرولیم مصنوعات کے بڑے اسکینڈل کو جنم دیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پی ایس او سے پیٹرولیم مصنوعات کو درآمد کرنے کا ٹھیکہ لے کر ایک نجی بین الاقوامی کمپنی Hascol کو دے دیا گیا۔ جس کے حصے دار ندیم بابر بتائے جاتے ہیں۔ اور اُس کمپنی نے صرف 25 فیصد پیٹرولیم پروڈکٹ ریلیز کئے۔ اور 75 فیصد کی ذخیرہ اندوزی کی۔ جس کے بعد پیٹرول کی قیمتوں میں 100 فیصد ہوش ربا اضافہ کردیا گیا اور بہت سے لوگوں نے بہتی ہوئی گنگا میں ہاتھ دھوئے۔ اسی طرح کی باتیں نواز حکومت کے بارے میں ہوتی تھیں کہ وہ کسٹمز ڈیوٹی کم کرکے آئرن اسکریپ کم قیمت پر منگوا لیا کرتے تھے۔ اور پھر سابقہ

ڈیوٹیاں بحال ہوتی تھیں اور اس طریقے سے ان کو گھر بیٹھے بے حساب منافعے حاصل ہوتے تھے۔ یہی کچھ ان کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ بڑی بڑی گاڑیاں درآمد کی جاتی ہیں۔ درآمد کرتے وقت کسٹمز ڈیوٹیز کم سے کم کردی جاتی تھیں، پھر ان کو بحال کردیا جاتا ہے۔ اور نتیجے کے طور پر ناجائز منافع بٹورا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا اس صورتحال میں نیب، ایف آئی اے یا اینٹی کرپشن کے ادارے کیا کر رہے ہیں، کہاں سو رہے ہیں۔ حکومت سندھ کا اس سے بھی عجیب و غریب حال ہے۔ یہاں کوئی کام بھی ایسا نہیں ہے جہاں دیانت کا زرا سا شائبہ بھی نظر آتا ہو۔ گزشتہ دنوں کے ایم سی کا بجٹ آیا ہے۔ لگ بھگ 25 ارب روپے کی آمدن ہے جو بہت تھوڑی ہے۔ اسے جائز طریقوں سے بڑھایا جاسکتا ہے۔ حکومت سندھ سے بھی گرانٹس زیادہ لی جاسکتی ہیں، لیکن ان کے صرف اسٹیبلشمنٹ کا خرچ 15 ارب روپے ہے۔ جہاں کی آمدن ہی 25 ارب ہے وہاں اسٹیبلشمنٹ کا خرچ 15 ارب روپے ہو تو اس کا مطلب ہے کہ وہاں پر رشوت کی بنیاد پر بھرتیوں کی بھرمار کی جاتی رہی ہے۔ ان چیزوں کو کون حساب دے گا، کب حساب دے گا، کیسے حساب دے گا اور اس قوم کا کیا بنے گا۔ یہ ایک سوال ہے جس کا جواب کہیں نہیں مل رہا۔



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


تازہ ترین خبریں
26 1
فائز عیسیٰ کے بعد کون سا جج ٹارگٹ پر ہے ؟ حامد میر کا تہلکہ خیز انکشاف
25 1
فکر نہ کریں ہم عمران خان کو کھا جائیں گے، آصف زرداری
24 2
لیاقت جتوئی کو (ن)لیگ میں شمولیت کا مشورہ ، رفقاء سے مشاورت کے بعد بڑے فیصلے کا امکان
23 2
مولوی صلاح الدین ایوبی کی13 سالہ بچی سے شادی
22 2
پاکستان میں فائیو جی ٹیکنالوجی متعارف
21 2
کتنے حکومتی اراکین نے اپوزیشن سے رابطے کر لیے؟ حکومت ہل کر رہ گئی

تازہ ترین ویڈیو
10 1
وہ پراسرار ترین کنواں جس میں ہزاروں ٹن خالص سونا موجود
25
گوشت گدھے کا ہے یا بکرے کا، ایک منٹ میں پتہ لگائیں
سونا
سونا مزید سست
10
ایمان کو جھنجوڑ دینے والا واقعہ
27 2
یہ وہ جھوٹ ہے جوہر لڑکی ضرور بولتی ہے
14 6
28 لاکھ 70 ہزار فوج کیسے چند سالوں میں زمین بوس ہوگئی

دلچسپ و عجیب
10 1
وہ پراسرار ترین کنواں جس میں ہزاروں ٹن خالص سونا موجود
9 1
کرونا وائرس کی وبا کے دوران میاں بیوی ازدواجی تعلقات قائم رکھ سکتے ہیں ؟
35 2
کورونا وائرس کے ذریعے پوری دنیا میں کرفیو
20 8
دریا ’’نیل‘‘ کے نیچے زیر زمین کونسا دریا بہتا ہے
4 10
جو ں جوں وقت گزرتا جاتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ جو اللہ اوراس کے رسول نے کہا وہی درست ہے
28 6
سیاستدان سیاست میں آنے سے پہلے کیا کیا کرتے تھے
27 7
کرونا وائرس ,احتیاطوں کے ساتھ یہ تسبیحات روز کی جائیں، انتہائی مفید معلومات
13 6
پنڈتوں نے کورونا وائرس سے بھگوان کو بچانے کے لیے اُن کو ماسک پہنا دیا
Copyright © 2017 insafnews.pk All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Discaminer | Contact Us