13

خاتون سکول ٹیچر اور اسکے 13سالہ طالبعلم کا گھر سے فرار


اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )چند روز قبل پاکستانی سوشل میڈیا پر ایک خبر خوب وائرل ہوئی کہ لاہور میں خاتون ٹیچر اپنے چھٹی جماعت کے 13سالہ طالب علم کو لاہور سے بھگا کر جڑانوالہ لے گئی ۔۔ کہانی کچھ یوں ہے کہ لاہور کے 2خاندانوںنے پولیس کو درخواست دی کہ چھٹی جماعت کا13 سالہ طالب علم اور اسکی ٹیوشن ٹیچر

غائب ہیں ۔ خاتون ٹیچر کا نام طاہرہ جبکہ طالبعلم کا نام مزمل ہے ۔ مقدمہ درج ہوتے ہی پولیس حرکت میں آگئی اور 15دنوں بعد دونوں کو بازیاب کروالیاگیا۔ دونوں سے جب تحقیقات کی گئیں تو پتہ چلا کہ خاتون ٹیچر طاہرہ کو گھر میں طعنے دیے جاتے تھے، اسے لفظی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا جس کی وجہ سے تنگ آکر وہ اپنے13سالہ طالبعلم مزمل کو اپنے ساتھ ایک سہارے کے طور پر بھگا کر جڑانوالہ فرار ہو گئی ۔ طاہرہ کا کہنا تھا کہ میں اکیلی کہیں نہیں جا سکتی تھی اس لیے میں نے مزمل کا سہارا لینے کا فیصلہ کیا اور سوچا کہ کہیں بھی بھاگ کر نئی زندگی شروع کروں گی اور مزمل کو اپنے ساتھ رکھوں گی ۔ جڑانوالہ میں طاہرہ نے مزمل کے ساتھ ایک کرائے کا گھر لے کر ایک نجی سکول میں ملازمت شروع کر دی اور مزمل کو بھی وہاں چھٹی جماعت میں داخلہ دلوا دیا ۔ یہ دونوں 15روز تک یونہی زندگی گزارتے رہے ۔ دوسری جانب پولیس بھی دونوں کو ٹریس کر رہی تھی اور بالآخر آج پولیس کو دونوں کا سراغ ملا جس کے بعد ان دونوں کو جڑانوالہ سے

واپس لاہور لایا گیا جس کے بعد دونوں ابھی تک پولیس کی تحویل میں ہیں ۔طالبعلم مزمل تفتیش کے دوران ٹیچر کو آپی کہتا رہا۔ اس کا کہنا تھا کہ کیونکہ آپی میری ٹیچر ہیں تو ان کا حکم ماننا میرا فرض تھا اسی لیے میں آپی کے ساتھ جڑانوالہ چلا گیا ور ہم وہاں اپنی زندگی گزارنے لگے ۔ مزمل نے بتایا کہ میں نے ایک دو بار آپی کو کہا بھی اب ہم ہم واپس چلتے ہیں لیکن انہوں نے میری بات کا جواب نہیں دیا ۔اس معاملے کی مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں ۔ ڈی ایس پی عمر فاروق کے مطابق انہوں نے بچے کی گمشدگی کی اطلاع کے بعد ٹیچر کی قریبی دوست کو شامل تفتیش کیا۔جس نے پولیس کو بتایا کہ وہ گھریلوں جھگڑوں کی وجہ سے پریشان تھی۔وہ اسے ایک بار اپنے ساتھ گاؤںبھی لے گئی تھی۔جہاں اس سے نے ٹیچر کو مشورہ دیا کہ وہ ا سکے خاوند سے دوسری شادی کر لے یوں وہ اکٹھے رہیں گے۔چونکہ اس کے اپنے پانچ بچے تھےلہذا لڑکی نے شادی کرنے سے انکار کر دیا اور دو دن بعد اپنے سٹوڈنٹ کو لے کر نکل گئی۔پولیس نے ملزمہ کو اس کی بہن کے فون سے ٹریس کیا جو کہ وہ ساتھ لے گئی تھی۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں فریقین

کے گھر والے ایک دوسرے پر نالاں تھے۔پولیس کی موجودگی میں مراد کو اس کے گھر والوں کے حوالے کر دیا گیا ہے جب کہ استانی کو بھی ضمانت کے بعد گھر بھیج دیا گیا۔مراد کی والدہ نے انوسٹی گیشن پولیس کو بتایا کہ طالب علم اور استانی کا اتنے دن تک گھر سے باہر رہنا دونوں گھروں کے لیے باعث شرمندگی ہے۔لہذا دونوں گھروں کے بڑوں نے فیصلہ کیا ہے کہ مدعی اپنا مقدمہ واپس لے کر ان دونوں کا نکاح کروا دیں گے اور مراد کے تعلیم مکمل کر کے برسرروزگار ہونے کے بعد رخصتی کی جائے گی۔



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


تازہ ترین خبریں
16 8
پیپلز پارٹی کا (ق) لیگ کے حوالے سے بڑا فیصلہ
15 10
پہلا روزہ اور عید کب ہوگی
14 11
2023ء میں پاکستان کا وزیر اعظم کون ہوگا؟ بڑی پیشگوئی
13 12
تنخواہوں میں بڑے اضافے کی تیاریاں
12 11
(ن) لیگ کا بلدیاتی اداروں پر کنٹرول بحال
11 11
بلاول بھٹو کو وزیر اعظم بنوانے کی کوششیں تیز

تازہ ترین ویڈیو
23
امت مسلمہ کے ہیرو صلاح الدین ایوبی کے قول کے پیچھے چھپی سچی کہانی
27 2
یہ وہ جھوٹ ہے جوہر لڑکی ضرور بولتی ہے
2
کرونا وبا کب اور کیسے ختم ہو گی ؟ 1400 سال پہلے حضور اکرم ﷺ کی نشاندہی ، جان کر آپ پھولے نہ سمائیں گے
4 7
جھگڑالو بیوی نعمت خدا وندی مگر کیسے
3 9
کیسے لڑکیوں کو خواب دکھا کر تباہ کیا جاتا ہے ایک سچا واقعہ
52394
الطاف حسین نے آخری وقت میں ہندو مذہب کیوں اختیار کیا،کرونا سے ڈر کر یا ہندووں کی محبت میں

دلچسپ و عجیب
15 7
وہ سربراہ جسے دفنانے کیلئے کئی بار قبر کھودی گئی مگر اندر ایک کالاسانپ نکلا
9 1
کرونا وائرس کی وبا کے دوران میاں بیوی ازدواجی تعلقات قائم رکھ سکتے ہیں ؟
20 8
دریا ’’نیل‘‘ کے نیچے زیر زمین کونسا دریا بہتا ہے
Copyright © 2017 insafnews.pk All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Discaminer | Contact Us