9 6

خان صاحب،بے خبر ہیں اور آپ کی ناک کے نیچے ڈیلوں پر ڈیلیں ہو رہی ہیں


لاہور (ویب ڈیسک) لاہور جانا تھا ۔ ارشد شریف اور صابر شاکر کے ساتھ پلان بنا اور ہم تینوں اکٹھے ہی نکل پڑے۔ دنیا گروپ کے چیئرمین میاں عامر محمود کے صاحبزادے حمزہ محمود کی شادی تھی۔ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت بڑے عرصے بعد کسی فنکشن میں دیکھی اور بڑے عرصے بعدنامور کالم نگار رؤف کلاسرا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ہی کارڈ پر لکھا ہوا تھا: کوئی تحفہ نہ لائیں نہ ہی سلامی‘ آپ کا آنا ہی تحفہ ہے۔ پھر بھی ارشد شریف

اور میں نے دولہے کو سلامی دینے کی کوشش کی تو میاں عامر محمود صاحب نے ہنس کر کہا: اسلام آباد آکر لے لوں گا‘ ابھی رہنے دیں۔سابق پولیس افسر عابد باکسر کو پہلے ٹی وی پر دیکھا تھا یا اخبارات میں ان کی خبریں پڑھی تھیں ۔ ان سے پہلی دفعہ ملاقات ہورہی تھی۔ وہ ہماری ہی میز پر بیٹھ گئے اور اپنے مقدمات کے بارے میں بتانے لگے کہ عدالتوںنے انہیں مقدمات سے بری کر دیا تھا‘ نام ای سی ایل پر تھا وہاں سے عدالت کے حکم سے نکلا تو پھر وزارتِ داخلہ نے پاسپورٹ بلیک لسٹ میں ڈال دیا۔ اسی میز پر ستار خان‘ خاور گھمن‘ محمد عمران ‘ ابوذرسلمان نیازی‘ فضل‘ عدیل وڑائچ اور دیگر دوستوں سے بھی ملاقات ہوگئی۔

مظفرآباد سے آئے صحافی دوست طارق نقاش کے ساتھ گپ شپ لگی ۔ عدلیہ پر کوئی بات چھڑی تو میں نے کہا: ایک بات لکھ کر رکھ لیں کوئی بھی معاشرہ آگے نہیں بڑھتا جب تک وہاں عدالتیں اور میڈیا ذمہ داری کے ساتھ آزاد نہ ہوں۔ آج کل فیشن چل نکلا ہے کہ میڈیا کو گالی دو اور چند لوگوں کی وجہ سے ایسے ظاہر کرو جیسے آسمان گر پڑا ہے‘ لہٰذا ان کے خلاف مزید کارروائیاں کرو۔ میں نے کہا: یہ کہنا غلط ہے کہ میڈیا مادر پدر آزاد ہے۔ ہمارے لیے بھی قوانین ہیں اور ہم ہر جگہ مقدمات کا سامنا کرتے ہیں۔نواز شریف کے دور میں ہر روز پیمرا نے ٹی وی چینلز اور اینکرز کو بلایا ہوا ہوتا تھا اور روز سمری ٹرائل کے بعد سزائیں دینے کا رواج عام تھا۔ عدالتوں میں اس کے علاوہ روز مقدمے ہوتے ہیں۔ جو سمجھتے ہیں بے قصور

ہیں وہ جا کر پیمرا اور عدالتوں سے رجوع کر سکتے ہیں ۔ عامر متین‘ ارشد شریف اور خود میں نے نواز شریف کے دور میں تیرہ مقدمات پیمرا میں بھگتے‘ درجنوں پیشیاں بھگتائیں‘ گھنٹوں دفاتر کے باہر بٹھا کر انتظار کرایا گیا اور ہم نے کیا‘ لیکن کبھی ہم نے احتجاج نہیں کیا‘ کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ کسی بھی وزیر یا اہم عہدے دار کا قانونی‘ اخلاقی حق بنتا ہے کہ اگر وہ محسوس کرتا ہے کہ ہم نے کچھ غلط بولا ہے تو وہ ہمیں عدالتی فورم پر لے کر جائے۔ اگر ہم وہاں اپنی خبر یا اپنا فائل کیا ہوا سکینڈل ثابت کرنے میں ناکام رہیں تو پھر قانونی سزا ملنی چاہیے۔ اللہ کی مہربانی سے عامر متین اور میں خود ہر پیشی پر پیمرا میں پیش ہوتے رہے اور سب مقدمات ہم نے ثبوتوں کی مدد سے جیتے‘ حالانکہ شریف حکومت کی بڑی کوشش تھی کہ کسی طرح ان کو سزائیں دلوائی جائیں۔ ہم نے مظلوم بننے کی کوشش نہیں کی کہ ہمارے خلاف کیوں شکایت فائل کی گئی ہے۔ لیکن کچھ عرصے سے پی ٹی آئی کے وزیروں میں ایک تبدیلی آرہی ہے‘ یہ چاہتے ہیں کہ یہ ایک خط پیمرا کو لکھیں اور فوجی طرز کی عدالتوں پراینکرز یا صحافیوں کو بلا کر دوسرے دن سزا دے دیں۔



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


تازہ ترین خبریں
5
راشد خان افغانستان میں موجود گھر والوں کی حفاظت سے متعلق پریشان
19
پی ٹی آئی نے بلوچستان حکومت سے علیحدگی پر غور شروع کر دیا
18
وزیر اعظم ہاؤس بلا کر عمران خان مجھے کیا کہتے رہے؟ بشیر میمن کے تہلکہ خیز انکشافات
17
بجلی سستی کیے جانے کا امکان
16
نواز شریف کے 3 قریبی ساتھی کس اعلیٰ شخصیت سے ملے؟ بڑی خبر
15
عید کے بعد کیا کرنا ہے؟ حکمت عملی تیار

تازہ ترین ویڈیو
23
امت مسلمہ کے ہیرو صلاح الدین ایوبی کے قول کے پیچھے چھپی سچی کہانی
27 2
یہ وہ جھوٹ ہے جوہر لڑکی ضرور بولتی ہے
2
کرونا وبا کب اور کیسے ختم ہو گی ؟ 1400 سال پہلے حضور اکرم ﷺ کی نشاندہی ، جان کر آپ پھولے نہ سمائیں گے
4 7
جھگڑالو بیوی نعمت خدا وندی مگر کیسے
3 9
کیسے لڑکیوں کو خواب دکھا کر تباہ کیا جاتا ہے ایک سچا واقعہ
52394
الطاف حسین نے آخری وقت میں ہندو مذہب کیوں اختیار کیا،کرونا سے ڈر کر یا ہندووں کی محبت میں

دلچسپ و عجیب
11
دفنانے کیلئے کئی بار قبر کھودی گئی مگر اندر ایک کالاسانپ نکلا
15 7
وہ سربراہ جسے دفنانے کیلئے کئی بار قبر کھودی گئی مگر اندر ایک کالاسانپ نکلا
9 1
کرونا وائرس کی وبا کے دوران میاں بیوی ازدواجی تعلقات قائم رکھ سکتے ہیں ؟
20 8
دریا ’’نیل‘‘ کے نیچے زیر زمین کونسا دریا بہتا ہے
Copyright © 2017 insafnews.pk All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Discaminer | Contact Us