2

راحیل شریف کی بہادری کا قصہ


اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) بہادر خاندان کے بہادر بیٹے جنرل راحیل شریف اور ان کے خاندان کی بہادری کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔ ماموں عزیزبھٹی شہید جنہوں نے بھارت کے ساتھ جنگ میں شجاعت اور بہادری کے ایسے ایسے کارنامے رقم کیے کہ خود دشمن نے بھی اپنے منہ سے ان کی جوانمردی کا ببانگ دہل اعتراف کیا ۔جنرل راحیل شریف کے بڑے بھائی میجر شبیر شریف شہید نے بھی دشمن کے مورچوں میں جا کر جرات کے ایسے کارنامے رقم کیےجو رہتی دنیا تک پاکستان اور جنرل راحیل شریف کےخاندان کی عظمت کےپاسبان رہیںگے ۔شہیدوں

کے خاندان کاعظیم اور جری سپوت’’ راحیل شریف ‘‘ جنہوں نے پاکستانی فوج کی کمان سنبھالتے ہی ایسے شاندار اقدامات کیے جو بس انہیں کا حق تھے ۔ شیر کی طرح بہادر اس سپوت نے ہر معاملے میں پاکستان کی پشت پناہی کبھی بالکل کسی شفیق ماں کی طرح کی تو کبھی وہ ایک سخت غصہ آ ور مگر ایک پیار کرنے والے باپ کی طرح دن رات پاکستان کی عظمت اور سر بلندی کیلئے سر گرم رہے ۔جنرل راحیل شریف کی بہادری کا قصہ سناتے ہوئے پاکستان کے معروف کالم نگار ضیا شاہد کہتے ہیں کہ ’’راحیل شریف 1981ءمیں گلگت میں بریگیڈ ہیڈکوارٹرمیں بطورجی 3تعینات تھے اور راولپنڈی سے گلگت کا بس کا سفر چوبیس گھنٹوں سے زائد پر محیط تھا، موسمی حالات کی وجہ سے پی آئی اے کے فوکر طیاروں کی آمدورفت بند ہوتی تو پھر فوجی افسر کسی آتے جاتے ہیلی کاپٹر کا انتظا رکرتے ۔ جی ایچ کیو سے ایک جنرل ہیلی کاپٹر پر گلگت آئے تو واپسی پر عملے اور مسافروں کے علاوہ دوفوجی جوان افسروں کو بھی جگہ مل گئی،پیوماہیلی کاپٹر گلگت سے فضاءمیں بلند ہواتو پتن سے پہلی فنی خرابی آگئی جس پر پائلٹ نے ہیلی کاپٹر کو شاہر

اہ قراقرم پر اتار لیا۔ہیلی کاپٹر کا دروازہ کھلتے ہی سب نے چھلانگیں لگادیں اوربھاگنے کو ترجیح دی لیکن عقبی نشست پر دوجوانوں میں سے ایک نے باہرنکل کر محفوظ مقام پر جانے کا ارادہ ہی کیاتھا کہ ساتھ موجود مضبوط کاٹھی کے افسر نے بازوپکڑلیا اورپنجابی میں کہاکہ ”لالے کتھے نس رہیاں ایں“(بھائی کہاں بھاگ رہے ہو؟)جس پر جونیئرافسر نے جواب دیا کہ کاک پٹ میں دھواں بھررہاہے جوکسی بھی وقت آگ کا باعث بن سکتاہے ۔ سینئرفوجی افسر بولاکہ ’عملے نوں چھڈ کے کس طرح جاواں گے‘(عملے کو چھوڑ کر کس طرح جاسکتے ہیں؟)جس پر جونیئرافسر بھی شرمسار ہوا۔کچھ فاصلے پر موجود جنرل صاحب اور دیگر مسافرشور مچارہے تھے کہ جلدی باہرنکلیں لیکن ہیلی کاپٹرمیں موجود افسرٹس سے مس

نہیں ہوااور عملے کیساتھ اندر ہی رہا، ہیلی کاپٹر کے وائرلیس سیٹ کی انٹینا تار کے شعلہ پکڑنے سے اٹھنے والا دھواں متبادل نظام کے فعال ہوتے ہی بجھ گیا، اور ہیلی کاپٹر دوبارہ سفر کیلئے تیار ہوگیا۔ اس سینئر نوجوان افسر کا نام جنہوں نے باہر نکلنے سے انکار کردیا، ’’راحیل شریف‘‘ تھا۔



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


تازہ ترین خبریں
5
راشد خان افغانستان میں موجود گھر والوں کی حفاظت سے متعلق پریشان
19
پی ٹی آئی نے بلوچستان حکومت سے علیحدگی پر غور شروع کر دیا
18
وزیر اعظم ہاؤس بلا کر عمران خان مجھے کیا کہتے رہے؟ بشیر میمن کے تہلکہ خیز انکشافات
17
بجلی سستی کیے جانے کا امکان
16
نواز شریف کے 3 قریبی ساتھی کس اعلیٰ شخصیت سے ملے؟ بڑی خبر
15
عید کے بعد کیا کرنا ہے؟ حکمت عملی تیار

تازہ ترین ویڈیو
23
امت مسلمہ کے ہیرو صلاح الدین ایوبی کے قول کے پیچھے چھپی سچی کہانی
27 2
یہ وہ جھوٹ ہے جوہر لڑکی ضرور بولتی ہے
2
کرونا وبا کب اور کیسے ختم ہو گی ؟ 1400 سال پہلے حضور اکرم ﷺ کی نشاندہی ، جان کر آپ پھولے نہ سمائیں گے
4 7
جھگڑالو بیوی نعمت خدا وندی مگر کیسے
3 9
کیسے لڑکیوں کو خواب دکھا کر تباہ کیا جاتا ہے ایک سچا واقعہ
52394
الطاف حسین نے آخری وقت میں ہندو مذہب کیوں اختیار کیا،کرونا سے ڈر کر یا ہندووں کی محبت میں

دلچسپ و عجیب
11
دفنانے کیلئے کئی بار قبر کھودی گئی مگر اندر ایک کالاسانپ نکلا
15 7
وہ سربراہ جسے دفنانے کیلئے کئی بار قبر کھودی گئی مگر اندر ایک کالاسانپ نکلا
9 1
کرونا وائرس کی وبا کے دوران میاں بیوی ازدواجی تعلقات قائم رکھ سکتے ہیں ؟
20 8
دریا ’’نیل‘‘ کے نیچے زیر زمین کونسا دریا بہتا ہے
Copyright © 2017 insafnews.pk All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Discaminer | Contact Us