107

عبدالمجید اچکزئی کی بریت مرحوم عطا اللہ کے اہلخانہ کی کوششیں رنگ لے آئیں


کوئٹہ(این این آئی)بلوچستان حکومت نے ٹریفک پولیس اہلکار کیس میں نامزد ملزم سابق رکن صوبائی اسمبلی عبدالمجید خان اچکزئی کی بریت کے خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شاہوانی نے بتایا کہ اپیل کی درخواست کی تیاری آخری مراحل میں ہے۔ لیاقت شاہوانی نے کہا کہ تفصیلی فیصلے اور دستاویزات کا جائزہ لے کر درخواست کو حتمی شکل دیں گے۔انہوں نے بتایا کہ کوئٹہ کی خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف جلد بلوچستان ہائیکورٹ میں اپیل دائر کریں گے۔خیال رہے کہ 4ستمبر کو کوئٹہ کی ماڈل کورٹ نے ٹریفک پولیس اہلکار قتل
کیس کا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے عدم ثبوت پر

 

سابق چیئرمین پبلک اکانٹس کمیٹی اور پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے رہنما عبدالمجید خان اچکزئی کو باعزت بری کر دیا تھا۔ماڈل کورٹ کے جج دوست محمد مندوخیل نے ٹریفک پولیس اہلکار کیس کی سماعت کی تھی۔یاد رہے کہ یہ کیس 2017سے زیر سماعت ہے اور ابتدا میں یہ کیس انسداد دہشت گردی عدالت میں زیر سماعت تھا کیونکہ مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات کو شامل کیا گیا تھا تاہم بعد ازاں ملزم کے وکلا کی جانب سے درخواست دی گئی تھی کہ کیس انسداد دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتا اسے ماڈل کورٹ منتقل کیا جائے جس کے بعد کیس سے دہشت گردی کی دفعات کو ختم کرکے اسے ماڈل کورٹ منتقل کردیا گیا تھا۔ خیال رہے کہ جون 2017 میں ٹریفک پولیس اہلکار سب انسپکٹر حاجی عطااللہ کو مجید اچکزئی کی تیز رفتار گاڑی نے کچل دیا تھا، جس سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے تھے۔اس کیس میں ابتدا میں پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی تاہم میڈیا اور سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں کے بعد رکن صوبائی اسمبلی کو 24 جون کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔واضح رہے کہ جون 2017میں اس وقت کے

 

یف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کوئٹہ میں سارجنٹ کو کچلنے کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے انسپکٹر جنرل (آئی جی)بلوچستان پولیس سے 3 دن میں رپورٹ طلب کی تھی۔دوسری جانب رکن اسمبلی عبد المجید اچکزئی نے واقعے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ٹریفک پولیس اہلکار کے اہل خانہ کو خون بہا ادا کرنے کو تیار ہیں۔یاد رہے کہ اسی سال 23 دسمبر کو کوئٹہ کی جوڈیشل مجسٹریٹ نے ٹریفک پولیس اہلکار کے قتل میں استعمال ہونے والی گاڑی کی ٹیمپرنگ کے کیس میں بلوچستان کے رکن اسمبلی عبد المجید خان اچکزئی کو باعزت بری کردیا تھا۔خیال رہے کہ کوئٹہ میں پولیس اہلکار کو گاڑی سے کچلنے کے حوالے سے کیس میں انکشاف ہوا تھا کہ عبدالمجید اچکزئی کے زیرِ استعمال گاڑی نان کسٹم پیڈ ہے جس کے بعد ان پر گاڑی ٹیمپرنگ کیس کا مقدمہ درج کیا گیا تھا تاہم انہیں 28 دسمبر 2017 کو اس مقدمے میں عدالت نے 5 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے کے عوض ضمانت دے دی تھی۔



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


تازہ ترین خبریں
16 8
پیپلز پارٹی کا (ق) لیگ کے حوالے سے بڑا فیصلہ
15 10
پہلا روزہ اور عید کب ہوگی
14 11
2023ء میں پاکستان کا وزیر اعظم کون ہوگا؟ بڑی پیشگوئی
13 12
تنخواہوں میں بڑے اضافے کی تیاریاں
12 11
(ن) لیگ کا بلدیاتی اداروں پر کنٹرول بحال
11 11
بلاول بھٹو کو وزیر اعظم بنوانے کی کوششیں تیز

تازہ ترین ویڈیو
23
امت مسلمہ کے ہیرو صلاح الدین ایوبی کے قول کے پیچھے چھپی سچی کہانی
27 2
یہ وہ جھوٹ ہے جوہر لڑکی ضرور بولتی ہے
2
کرونا وبا کب اور کیسے ختم ہو گی ؟ 1400 سال پہلے حضور اکرم ﷺ کی نشاندہی ، جان کر آپ پھولے نہ سمائیں گے
4 7
جھگڑالو بیوی نعمت خدا وندی مگر کیسے
3 9
کیسے لڑکیوں کو خواب دکھا کر تباہ کیا جاتا ہے ایک سچا واقعہ
52394
الطاف حسین نے آخری وقت میں ہندو مذہب کیوں اختیار کیا،کرونا سے ڈر کر یا ہندووں کی محبت میں

دلچسپ و عجیب
15 7
وہ سربراہ جسے دفنانے کیلئے کئی بار قبر کھودی گئی مگر اندر ایک کالاسانپ نکلا
9 1
کرونا وائرس کی وبا کے دوران میاں بیوی ازدواجی تعلقات قائم رکھ سکتے ہیں ؟
20 8
دریا ’’نیل‘‘ کے نیچے زیر زمین کونسا دریا بہتا ہے
Copyright © 2017 insafnews.pk All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Discaminer | Contact Us