78

غسل کعبہ کی روح پرور تقریب،آب زم زم،ہزاروں من عرق گلاب سے دھو دیاگیا، طواف کعبہ اور نوافل بھی ادا


مکہ مکرمہ(این این آئی )گورنر مکہ مکرمہ شہزادہ خالد الفیصل اور امام حرم عبدالرحمان السدیس نے بیت اللہ کو غسل دیا جس کے لیے 45 لیٹر آب زم زم اور ہزاروں من عرق گلاب استعمال کیا گیا۔عرب ٹی وی کے مطابق تقریب میں اعلی سول حکام، علمائے کرام، زائرین، غیر ملکی مسلم سفارتی نمائندے اور مختلف اسلامی ممالک کے منتخب افراد نے شرکت کی۔ خانہ کعبہ کے گرد سینکڑوں سیکیورٹی اہلکاروں نے حصار بنا رکھا تھا۔ بیت اللہ کے متولی نے خانہ کعبہ کا دروازہ کھولا۔غسل کے بعد طواف کعبہ اور نوافل بھی ادا کیے گئے۔ فرش کو آب زم زم
اور عرق گلاب بہا کر کھجور کے پتوں کی مدد سے تیار کردہ جھاڑو سے صاف کیا گیا جبکہ خانہ کعبہ کی اندرونی دیواروں کو خوشبووں میں بھیگے سفید کپڑے سے دھویاگیا۔خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے رواں سال 1442 ہجری کے لیے بیت اللہ کے غسل کی منظوری دی تھی جس کے بعد غسلِ کعبہ جمعرات کو سرانجام دیا گیا اور اس موقع پر کرونا وائرس کے تناظر میں تمام تر احتیاطی تدابیر کا خاص خیال رکھا گیا ۔ مکہ مکرمہ کے گورنر شہزادہ خالد الفیصل شاہ سلمان کی طرف سے

 

غسل کی کارروائی کی نگرانی کی گئی ۔اس حوالے سے مسجد حرام اور مسجد نبوی کے امور کے نگران اعلی ڈاکٹر عبدالرحمن السدیس نے خادم حرمین شریفین اور ولی عہد کی جانب سے حرمین شریفین اور اس کے زائرین کے لیے خصوصی توجہ اور دیکھ بھال پر دونوں شخصیات کا شکریہ ادا کیا۔ خانہ کعبہ کو ہر سال آب زمزم میں عرقِ گلاب ملا کر غسل دیا جاتا ہے۔سعودی عرب کے قیام کے بعد مملکت کے بانی شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعود کے دور سے لے کر خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے دور تک بیت اللہ کی تطہیر اور اس کی دیکھ بھال پر خصوصی توجہ دینے کا سلسلہ جاری ہے۔ عموما سال میں دو مرتبہ غسل کعبہ انجام دیا جاتا ہے۔ تاہم گذشتہ برس صرف ایک مرتبہ یعنی 15 محرم 1441 ہجری کو غسل انجام دیا گیا۔ مسجد حرام میں جاری توسیعی منصوبوں کے سبب شعبان کے مہینے میں مقررہ دوسرا غسل منسوخ کر دیا گیا تھا۔غسل کعبہ کا عمل اللہ کے رسول ۖ کی سنت کی پیروی کرتے ہوئے انجام دیا جاتا ہے۔

 

آپ ۖ جب فتح مکہ کے موقع پر خانہ کعبہ میں داخل ہوئے تو آپ نے اس کو بتوں سے پاک کیا اور اس کو غسل دیا۔ بعد ازاں خلفا راشدین نے بھی اس سنت کو جاری رکھا۔مملکت سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز آل سعود کے وقت سے یہ معمول ہے کہ سال میں دو مرتبہ کعبے کا غسل انجام دیا جاتا ہے۔ پہلی مرتبہ ہجری سال کے پہلے ماہ میں اور دوسری مرتبہ معتمرین کے استقبال کی تیاریوں میں شعبان کے وسط میں ہوتا ہے۔ اس کے مقابل بیت اللہ کے غلاف یعنی کِسوہ کی تبدیلی کا عمل سال میں ایک مرتبہ 9 ذو الحجہ کو انجام دیا جاتا ہے۔ معمول یہ ہے کہ سعودی فرماں روا یا ان کی نیابت میں کوئی شخصیت خانہ کعبہ کو اندر سے غسل دیتی ہے۔ اس مقصد کے لیے آب زمزم میں عرق گلاب ملا کر تیار کیے گئے محلول میں کپڑے کے ٹکڑوں کو بھگو کر ان سے کعبے کی اندرونی دیواروں اور فرش کو پونچھا جاتا ہے۔



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


تازہ ترین خبریں
16 8
پیپلز پارٹی کا (ق) لیگ کے حوالے سے بڑا فیصلہ
15 10
پہلا روزہ اور عید کب ہوگی
14 11
2023ء میں پاکستان کا وزیر اعظم کون ہوگا؟ بڑی پیشگوئی
13 12
تنخواہوں میں بڑے اضافے کی تیاریاں
12 11
(ن) لیگ کا بلدیاتی اداروں پر کنٹرول بحال
11 11
بلاول بھٹو کو وزیر اعظم بنوانے کی کوششیں تیز

تازہ ترین ویڈیو
23
امت مسلمہ کے ہیرو صلاح الدین ایوبی کے قول کے پیچھے چھپی سچی کہانی
27 2
یہ وہ جھوٹ ہے جوہر لڑکی ضرور بولتی ہے
2
کرونا وبا کب اور کیسے ختم ہو گی ؟ 1400 سال پہلے حضور اکرم ﷺ کی نشاندہی ، جان کر آپ پھولے نہ سمائیں گے
4 7
جھگڑالو بیوی نعمت خدا وندی مگر کیسے
3 9
کیسے لڑکیوں کو خواب دکھا کر تباہ کیا جاتا ہے ایک سچا واقعہ
52394
الطاف حسین نے آخری وقت میں ہندو مذہب کیوں اختیار کیا،کرونا سے ڈر کر یا ہندووں کی محبت میں

دلچسپ و عجیب
15 7
وہ سربراہ جسے دفنانے کیلئے کئی بار قبر کھودی گئی مگر اندر ایک کالاسانپ نکلا
9 1
کرونا وائرس کی وبا کے دوران میاں بیوی ازدواجی تعلقات قائم رکھ سکتے ہیں ؟
20 8
دریا ’’نیل‘‘ کے نیچے زیر زمین کونسا دریا بہتا ہے
Copyright © 2017 insafnews.pk All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Discaminer | Contact Us