18 18

لاک ڈاؤن کا آپشن حل نہیں ہے,عالمی ادارہ صحت


جنیوا(نیوز ڈیسک) عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس اذانوم گھبریائسس کا کہنا ہے کہ عالمی وبا کورونا وائرس سے ممالک میں لاک ڈاؤن کا آپشن استعمال کیا جا رہا ہے جو اس کا حل نہیں ہے۔ٹیڈروس اذانوم گھبریائسس نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے اور اس کے خاتمے کے لیے دنیا بھر کے ممالک میں لاک ڈاؤن کیا جا رہا ہے مگر یہ ان کا اپنا فیصلہ ہے، لاک ڈاؤن کورونا کو ختم کرنے کا سبب نہیں بن سکتا، یہ کورونا پر الٹا اٹیک کر کے اس سے لڑنے کا وقت ہے.ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ہیڈ کوارٹر جنیوا میں میڈیا سے گفتگو کے دوران ٹیڈروس اذانوم گھبریائسس نے مزید کہا کہ اس وبا سے لڑنے کے لیے کوئی راستہ اپنائیں، جیسے کہ سخت اقدامات عمل میں لائیں، بر وقت ٹیسٹ کرنا مریض کو قرنطینہ کرنا اور اس کا علاج کرنا ہی اس کا بہتر حل ثابت ہو سکتا ہے، لاک ڈاؤن کا آپشن صرف ان ممالک کے لیے کار آمد ہے جن کے صحت کے محکمات کمزور اور صحت کا مضبوط نظام موجود نہیں ہے.انہوں نے کہا کہ سخت معاشرتی اور معاشی پابندیوں کا لگانا بہترین اور تیز ترین راستہ نہیں ہے‘انہوں نے کہا کہ اس وقت اپنی عوام میں یہ آگاہی پھیلائیں کہ وہ اس سے کیسے بچ سکتے ہیں ،اس سے بچاؤ کے طریقے موجود ہیں اور بچاو ¿ کے لیے طبی سامان بھی، عوام میں اپنی صحت کی دیکھ بھال اور صحت عامہ کی تربیت بڑھانے کی ضرورت ہے.انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں عوام میں شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے کہ اس کا علاج ابتدائی دنوں میں تشخیص کے بعد ہو سکتا ہے، معمولی علامات میں ہی ڈاکٹر کے پاس جائیں تاکہ اس کا علاج کیا جا سکے اور یہ دوسروں میں نہ پھیلے، اس سے متعلق بچاؤکی تدابیر کرنا لازمی ہے. دنیا بھر میں کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 468,523 ہو گئی ہے جبکہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد 21,276 ہو چکی ہے یہ اعداد و شمار جان ہاپکنز یونیورسٹی کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں. سب سے زیادہ 7,503 ہلاکتیں اٹلی میں ہوئی ہیں جبکہ سپین میں 3,647، چین میں 3,163، ایران میں 2,077، فرانس میں 1,331، امریکہ میں 1,031، برطانیہ میں 465، نیدرلینڈز میں 356، جرمنی میں 206 جبکہ بلجیئم میں 178 افراد اس وبا کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں.اگرچہ ہلاکتوں میں اٹلی سرِفہرست ہے مگر کورونا وائرس کے مصدقہ کیسز اب بھی چین میں زیادہ ہیں چین میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 81,667، اٹلی میں 74,386، امریکہ میں 68,572، سپین میں 49,515، جرمنی میں 37,323، ایران میں 27,017، فرانس میں 25,600، سوئزرلینڈ میں 10,897، برطانیہ میں 9,640 جبکہ ساؤتھ کوریا میں مصدقہ کیسز کی تعداد 9,137 ہے اس وائرس کا شکار ایک لاکھ 14 ہزار سے زائد افراد اب تک صحتیاب بھی ہو چکے ہیں دنیا بھر کے 173 ممالک میں کورونا کے مریض موجود ہیں.



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


تازہ ترین خبریں
5
راشد خان افغانستان میں موجود گھر والوں کی حفاظت سے متعلق پریشان
19
پی ٹی آئی نے بلوچستان حکومت سے علیحدگی پر غور شروع کر دیا
18
وزیر اعظم ہاؤس بلا کر عمران خان مجھے کیا کہتے رہے؟ بشیر میمن کے تہلکہ خیز انکشافات
17
بجلی سستی کیے جانے کا امکان
16
نواز شریف کے 3 قریبی ساتھی کس اعلیٰ شخصیت سے ملے؟ بڑی خبر
15
عید کے بعد کیا کرنا ہے؟ حکمت عملی تیار

تازہ ترین ویڈیو
23
امت مسلمہ کے ہیرو صلاح الدین ایوبی کے قول کے پیچھے چھپی سچی کہانی
27 2
یہ وہ جھوٹ ہے جوہر لڑکی ضرور بولتی ہے
2
کرونا وبا کب اور کیسے ختم ہو گی ؟ 1400 سال پہلے حضور اکرم ﷺ کی نشاندہی ، جان کر آپ پھولے نہ سمائیں گے
4 7
جھگڑالو بیوی نعمت خدا وندی مگر کیسے
3 9
کیسے لڑکیوں کو خواب دکھا کر تباہ کیا جاتا ہے ایک سچا واقعہ
52394
الطاف حسین نے آخری وقت میں ہندو مذہب کیوں اختیار کیا،کرونا سے ڈر کر یا ہندووں کی محبت میں

دلچسپ و عجیب
11
دفنانے کیلئے کئی بار قبر کھودی گئی مگر اندر ایک کالاسانپ نکلا
15 7
وہ سربراہ جسے دفنانے کیلئے کئی بار قبر کھودی گئی مگر اندر ایک کالاسانپ نکلا
9 1
کرونا وائرس کی وبا کے دوران میاں بیوی ازدواجی تعلقات قائم رکھ سکتے ہیں ؟
20 8
دریا ’’نیل‘‘ کے نیچے زیر زمین کونسا دریا بہتا ہے
Copyright © 2017 insafnews.pk All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Discaminer | Contact Us