119

’میں شعیب دستگیر کا بچہ ہوں وہ مجھے بلاکر کہتے تو نے کیا بکواس کی ہے میں ان سے معافی مانگ لیتا‘


کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)سی سی پی او لاہور عمرشیخ نے کہا ہے کہ میں شعیب دستگیر کا بچہ ہوں وہ مجھے بلاکر کہتے تو نے کیا بکواس کی ہے میں ان سے معافی مانگ لیتا، انہیں بتایا میرا کیا مطلب تھا اگر کچھ لفظ اِدھر اُدھر ہوگئے تو میری انگریزی اتنی اچھی نہیں ہے مجھے معاف کردیں۔نجی ٹی وی وی جیو کے پروگرام میںشعیب دستگیر سے ملاقات کیلئے ان کے گھر ، دفتر اور واٹس ایپ پر پیغام چھوڑے،سابق اسپیشل پراسیکیوٹر نیب شاہ خاور نے کہا کہ عدالت نواز شریف کو مفرور بھی قراردیدے تب بھی اپیل کا فیصلہ میرٹ کے مطابق
ہوگا،ماہر قانون جسٹس (ر) رشید اے رضوی نے کہا کہ نواز شریف کو مخصوص مدت کیلئے واپسی کی شرط پر ضمانت دی گئی تھی،میزبان شاہزیب خانزادہ نے اپنے تجزیئے میں کہا کہ حالیہ تبدیلی پولیس اصلاحات کے ایجنڈے کیلئے بڑا دھچکا ہے۔سی سی پی او لاہور عمرشیخ نے کہا کہ میری پوسٹنگ پنجاب میں رائج طریقہ کار کے تحت انٹرویو کے بعد ہوئی، لاہور بہت بڑا شہر ہے جہاں سی سی پی او کی بہت بڑی کمانڈ ہے، ماڈل ٹاؤن واقعہ میں آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا کو جیوڈیشل کمیشن میں پوچھا گیا تو ان کا یہی کہنا تھا کہ لاہور پولیس کے اقدامات کی ذمہ داری سی سی پی او کی ہوتی ہے۔یہ بات پولیس والوں کو پولیس کی زبان میں ہی سمجھائی جاسکتی ہے، میں نے افسران کو یہی بتایا کہ لاہور میں ساری ذمہ داری ہماری ہے لہٰذا کہیں سے بھی آرڈر آئے حتیٰ کہ آئی جی آفس سے بھی آئے آپ نے مجھ سے کلیئرنس لینی ہے، اس کے بعد پولیس میں دو دھڑے بن گئے

 

، پولیس والوں کو پتا ہے میرا عمرشیخ فارمولا پولیسنگ آف دی پولیس ہے۔یہ پولیس اب شوکاز نوٹسز، وضاحتوں اور معطلیوں سے ٹھیک ہونے والی نہیں ہے، عمران خان پنجاب پولیس کو ٹھیک کرنا چاہتے ہیں،پولیس اس وقت تک ٹھیک نہیں ہوگی جب تک آپ ان کی گردن پر سوار نہیں ہوں گے۔ سی سی پی او لاہور عمر شیخ کا کہنا تھا کہ میں نے ایسی کوئی بات نہیں کہ آئی جی پنجاب نہیں چاہتے تھے کہ میں سی سی پی او بنوں، میں نے یہ کہا کہ اگرچہ آئی جی کا مجھ پر اعتبار کم ہے یا پھر مجھے لگایا گیا ہے۔کیا یہ ہوسکتا ہے کہ میں اپنی فورسز کو کہوں ڈسپلن اور کمانڈ میں آؤں لیکن خود کمانڈ میں نہیں آنے کی بات کروں، پچھلے اٹھائیس سال سے نوکری کررہا ہوں ، دس اضلاع کا ڈی پی او رہا ہوں ، چار سال واشنگٹن میں نوکری کر کے آیا ہوں۔ لاہور پولیس چیف عمر شیخ نے کہا کہ جب آپ پولیس کو سیدھا کرنے آئے ہوں تو جذبات میں کچھ باتیں ہوجاتی ہیں،میں شعیب دستگیر کا بچہ ہوں وہ مجھے بلاکر کہتے تو نے کیا بکواس کی ہے میں ان سے

 

معافی مانگ لیتا، انہیں بتایا میرا کیا مطلب تھا اگر کچھ لفظ اِدھر اُدھر ہوگئے تو میری انگریزی اتنی اچھی نہیں ہے مجھے معاف کردیں، شعیب دستگیر سے ملاقات کیلئے ان کے گھر ، دفتر اور واٹس ایپ پر پیغام چھوڑے۔ عمر شیخ کا کہنا تھا کہ آج پی ایس پی ایسوسی ایشن پنجاب چیپٹر کی میٹنگ میں بھی گیا، انہوں نے کہا کہ ہم آئی جی سے اظہار یکجہتی کیلئے کھڑے ہیں میں نے کہا میں بھی کھڑا ہوں، پولیس کا کوئی افسر مجھے نہیں کہہ سکتا کہ میں نے مس کنڈکٹ کیا ہے، پولیس افسران آئی جی پنجاب کے ساتھ میرے خلاف نہیں حکومت کیخلاف کھڑے ہوئے تھے۔



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


تازہ ترین خبریں
5
راشد خان افغانستان میں موجود گھر والوں کی حفاظت سے متعلق پریشان
19
پی ٹی آئی نے بلوچستان حکومت سے علیحدگی پر غور شروع کر دیا
18
وزیر اعظم ہاؤس بلا کر عمران خان مجھے کیا کہتے رہے؟ بشیر میمن کے تہلکہ خیز انکشافات
17
بجلی سستی کیے جانے کا امکان
16
نواز شریف کے 3 قریبی ساتھی کس اعلیٰ شخصیت سے ملے؟ بڑی خبر
15
عید کے بعد کیا کرنا ہے؟ حکمت عملی تیار

تازہ ترین ویڈیو
23
امت مسلمہ کے ہیرو صلاح الدین ایوبی کے قول کے پیچھے چھپی سچی کہانی
27 2
یہ وہ جھوٹ ہے جوہر لڑکی ضرور بولتی ہے
2
کرونا وبا کب اور کیسے ختم ہو گی ؟ 1400 سال پہلے حضور اکرم ﷺ کی نشاندہی ، جان کر آپ پھولے نہ سمائیں گے
4 7
جھگڑالو بیوی نعمت خدا وندی مگر کیسے
3 9
کیسے لڑکیوں کو خواب دکھا کر تباہ کیا جاتا ہے ایک سچا واقعہ
52394
الطاف حسین نے آخری وقت میں ہندو مذہب کیوں اختیار کیا،کرونا سے ڈر کر یا ہندووں کی محبت میں

دلچسپ و عجیب
11
دفنانے کیلئے کئی بار قبر کھودی گئی مگر اندر ایک کالاسانپ نکلا
15 7
وہ سربراہ جسے دفنانے کیلئے کئی بار قبر کھودی گئی مگر اندر ایک کالاسانپ نکلا
9 1
کرونا وائرس کی وبا کے دوران میاں بیوی ازدواجی تعلقات قائم رکھ سکتے ہیں ؟
20 8
دریا ’’نیل‘‘ کے نیچے زیر زمین کونسا دریا بہتا ہے
Copyright © 2017 insafnews.pk All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Discaminer | Contact Us