17 2

نبی کریم ؐ کے فرمودات کی روشنی میں متحدہ عرب امارات کی شرمناک تاریخ


لاہور (ویب ڈیسک) یہ دن تو آنا ہی تھا۔ وہ لوگ جو اپنے حالاتِ حاضرہ کو مخبرِ صادق، رسولِ رحمت حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی بتائی گئی آخرالزمان اور دورِ فتن کی پیش گوئیوں کی روشنیوں میں دیکھتے ہیں اور یہود نصاریٰ اور کفار کے عادات و خصائل کے بارے میں قرآنِ پاک سے رہنمائی لیتے ہیں،نامور کالم نگار اوریا مقبول جان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ ان کے لئیے آج کی یہ خبر کسی حیرت کا باعث نہیں ہے کہ ’’متحدہ عرب امارات‘‘ اور ’’اسرائیل‘‘ کے درمیان امن معاہدہ ہوا ہے۔ اس کی علامات تو اس دن سے واضح ہونا شروع ہو گئیں تھیں، جب اپریل 2019ء میں ہندو مندر کی تعمیر کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ پورے جزیرہ نمائے عرب کو شرک سے پاک کرنے کے بعد سید الانبیاء ﷺ نے قیامت کی نشانیوں میں جزیرہ عرب میں صرف ایک بت خانے اور بتوں کی پرستش کی خبر دی تھی جو اس علاقے اور اس کے قرب و جوار میں ہوگا۔ آپ ﷺ نے فرمایا، ’’قیامت قائم نہیں ہوگی، یہاں تک کہ قبیلہ دوس کی عورتوں کا ذوالخلصہ کا (طواف کرتے ہوئے) چو تڑسے چوتڑ چھلے۔ ذوالخلصہ قبیلہ دوس کا بت تھا جسے وہ زمانہ جاہلیت میں پوجا کرتے تھے‘‘ (صحیح بخاری: 7116)۔ یہ ذوالخلصہ کا بت کہاں تھا اور اس کا علاقہ کونسا تھا۔ اس علاقے کی تاریخ کیا ہے اور رسولِ اکرم ﷺنے کس کو بھیج کر اس علاقے سے بت پرستی کے

مرکز کو تباہ و برباد کروایا تھا۔ یہ سب احادیث و تاریخ کی کتب میں مذکور ہے۔ سید الانبیاء ﷺ کی بعثت کے وقت جزیرہ نمائے عرب کی وہ ساحلی پٹی، جس پر آج کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات، مسقط، عمان کے ممالک اور یمن کے وہ مغربی علاقے جو عدن کی بندرگاہ کے ساتھ منسلک ہیں، یہ سب کے سب ایران کی زرتشت ساسانی سلطنت کا حصہ تھے۔ اس ایرانی خطے کو ’’ماذون‘‘ کہا جاتا تھا۔ ساسانی سلطنت کے بانی ’’اردشیر‘‘ نے 240قبل مسیح میں یہ علاقہ فتح کیا تھااور یہاں اپنا ایک گورنر یعنی مرزبان مقرر کررکھا تھا۔ رسولِ اکرم ﷺ کی ولادت سے پہلے مشہور ایرانی بادشاہ ’’خسرو‘‘ نے 531میں المنذر بن النعمان کویہاں کا گورنر مقرر کیا اور اسے ’’الخمیون‘‘ کے بادشاہ کا لقب دیا تھا۔ ایرانیوں نے اس پورے ساحلی علاقے کو اپنا باجگزار اس لئیے بنایا ہوا تھا تاکہ

جزیرہ نمائے عرب کے اکھڑ قبائل کو قابو میں رکھا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ جب سیدنا عمرؓ کے دور میں صحابہ کرامؓ یزدگرد کے دربار میں پہنچے تو اس نے حیرت سے دیکھتے ہوئے کہا، ’’تمہاری یہ مجال کہ تم یہاں تک آپہنچے ہو، ہم تو تمہارا دماغ اپنے گورنروں کے ذریعے سیدھا کیا کرتے تھے‘‘۔ لیکن حضرت عمرؓ کی ایران پر اس عظیم الشان فتح سے بہت پہلے ہی رسولِ اکرم نے اس خطے کو بت پرستی اور ایرانی اثرورسوخ سے پاک فرمایا دیا تھا۔ اس پورے خطے میں بت پرستی کا ایک مرکز تھا جسے ’’کعبۃ الیمانیہ‘‘ یعنی یمن کا کعبہ کہا جاتا تھا۔ یہ قبیلہ خثعم کا بت خانہ تھا جسے ذوالخلصہ کہتے تھے۔ یہی وہ خطہ تھا جہاں ابرہیہ نے صنعا کے قریب بہت بڑی عبادت گاہ تعمیر کی تھی اور وہ چاہتا تھا کہ عرب اسے مرکزِ عبادت بنائیں مگر عربوں کے دل میں کعبہ بسا ہوا تھا، اسی پر غصے کے عالم میں وہ 570ء میں ہاتھیوں کی فوج کے ساتھ خانہ کعبہ پر دھاوا بولنے کے لئیے نکلا، مگر جب مکہ کے نزدیک پہنچا تو اللہ نے اس کی فوج پر ’’ابابیلوں‘‘ سے ہلہ بلوا کرانہیں کھائے ہوئے بھس کی مانند کر دیا تھا۔



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


تازہ ترین خبریں
19
پی ٹی آئی نے بلوچستان حکومت سے علیحدگی پر غور شروع کر دیا
18
وزیر اعظم ہاؤس بلا کر عمران خان مجھے کیا کہتے رہے؟ بشیر میمن کے تہلکہ خیز انکشافات
17
بجلی سستی کیے جانے کا امکان
16
نواز شریف کے 3 قریبی ساتھی کس اعلیٰ شخصیت سے ملے؟ بڑی خبر
15
عید کے بعد کیا کرنا ہے؟ حکمت عملی تیار
14
الطاف حسین نے آخری وقت میں ہندو مذہب کیوں اختیار کیا

تازہ ترین ویڈیو
23
امت مسلمہ کے ہیرو صلاح الدین ایوبی کے قول کے پیچھے چھپی سچی کہانی
27 2
یہ وہ جھوٹ ہے جوہر لڑکی ضرور بولتی ہے
2
کرونا وبا کب اور کیسے ختم ہو گی ؟ 1400 سال پہلے حضور اکرم ﷺ کی نشاندہی ، جان کر آپ پھولے نہ سمائیں گے
4 7
جھگڑالو بیوی نعمت خدا وندی مگر کیسے
3 9
کیسے لڑکیوں کو خواب دکھا کر تباہ کیا جاتا ہے ایک سچا واقعہ
52394
الطاف حسین نے آخری وقت میں ہندو مذہب کیوں اختیار کیا،کرونا سے ڈر کر یا ہندووں کی محبت میں

دلچسپ و عجیب
11
دفنانے کیلئے کئی بار قبر کھودی گئی مگر اندر ایک کالاسانپ نکلا
15 7
وہ سربراہ جسے دفنانے کیلئے کئی بار قبر کھودی گئی مگر اندر ایک کالاسانپ نکلا
9 1
کرونا وائرس کی وبا کے دوران میاں بیوی ازدواجی تعلقات قائم رکھ سکتے ہیں ؟
20 8
دریا ’’نیل‘‘ کے نیچے زیر زمین کونسا دریا بہتا ہے
Copyright © 2017 insafnews.pk All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Discaminer | Contact Us