8 1

نیتن یاھو وعدے سے مکر گئے


مقبوضہ بیت المقدس(نیوز ڈیسک )اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ بھی جھوٹ بول کر دوستی کی اور فلسطینی علاقے مقبوضہ مغربی کنارے پر خود مختاری سے متعلق امارات کے دعوے کو مسترد کر دیا ہے اورکہاہے کہ وہ عرب ممالک کے ساتھ جون 1967 کی سرحدوں سے پہلے والی پوزیشن پرواپسی کے بغیر دوستی کے لیے تیار ہیں۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق تل ابیب میں ایک پریس کانفرنس کے دوران نیتن یاھو نے کہا کہ امارات کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے اعلان میں غرب اردن پر اسرائیلی خود مختاری کا اعلان واپس لینے کی کوئی شرط نہیں۔ غرب اردن کے علاقوں پر اسرائیل کی خود مختاری کے قیام کے اعلان پر قائم ہیں۔انہوں نے کہا کہ امارات کی طرف سے یہ تجویز سامنے آئی تھی کہ غرب اردن کے علاقوں پر اسرائیلی خود مختاری کا فیصلہ واپس لیا جائے تاہم امارات کی اس تجویز کو قبول نہیں کیا گیا۔ غرب اردن کے اسرائیل سے الحاق کے اعلان پر حکومت قائم ہے اور یہ اقدام حکومت کے اولین ترجیح میں شامل ایجنڈے کا حصہ ہے۔نیتن یاھو نے کہا کہ میں غرب اردن کو اسرائیل کا حصہ بنانے اعلان پر قائم ہوں۔دوسری جانب وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کے سینئر ایڈوائزر جریڈ کشنر کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کی ڈیل کو انجام تک پہنچانے میں ہمیں سعودی عرب کی مکمل حمایت حاصل تھی۔تفصیلات کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کے سینئر ایڈوائزر اور داماد جریڈ کشنر نے امریکی ٹی وی کو انٹرویو کے دوران کہا کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والا معاہدہ گذشتہ 26 سال میں تاریخی اعتبار سے سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب مسلم ممالک میں رائے عامہ ہموار کرنے کا ذریعہ مانا جاتا ہے اور کسی ایسے ملک کے ساتھ تعلقات کو خراب کرنے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے دورہ سعودی عرب کے دوران

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو بات چیت کے ذریعے اعتماد میں لیا اور ان کو امریکی پالیسیوں کے لئے آمادہ کیا۔جریڈ کشنر نے مزید بتایا کہ اسی دورے کے بعد پہلے نمبر پر سعودی عرب کے تعاون سے ایران کے معاملے پر امریکہ نے ٹھوس اقدامات اٹھائے اور دوسرے نمبر پر دہشت گردوں کی مالی معاونت ختم کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے۔تیسرے نمبر پر سب سے اہم کام سعودی عرب جو کہ مسلمانوں کے مقامات مقدسہ کے ساتھ مسلم دنیا کا لیڈر سمجھا جاتا ہے، کو شدت پسندی کے خاتمے کے لیے ایسی جدت کی جانب مائل کیا گیا جس کے بعد مسلمان یہ سوچیں گے کہ اگر ان کا لیڈر پر اعتراض نہیں کر رہا تو اس میں کوئی قباحت نہیں۔جریڈ کشنر کے مطابق سعودی عرب میں نوجوانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، جو آنے والے وقت میں کاروباری لحاظ سے مشرق وسطی میں شامل ممالک کے دیگر دنیا کے ساتھ بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں۔نوجوانوں کی بہتر مستقبل کے لئے سعودی عرب دوسرے ممالک سے تعلقات کی بحالی کے لیے قدم اٹھانے میں ہمارے ساتھ ہے۔سعودی عرب امریکہ کے ساتھ مل کر آگے بڑھے تو ہم بہت سے میدانوں میں کامیابیاں سمیٹں گے جو کہ تاریخی اعتبار سے انتہائی اہمیت کی حامل ہوگی۔



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


تازہ ترین خبریں
5
راشد خان افغانستان میں موجود گھر والوں کی حفاظت سے متعلق پریشان
19
پی ٹی آئی نے بلوچستان حکومت سے علیحدگی پر غور شروع کر دیا
18
وزیر اعظم ہاؤس بلا کر عمران خان مجھے کیا کہتے رہے؟ بشیر میمن کے تہلکہ خیز انکشافات
17
بجلی سستی کیے جانے کا امکان
16
نواز شریف کے 3 قریبی ساتھی کس اعلیٰ شخصیت سے ملے؟ بڑی خبر
15
عید کے بعد کیا کرنا ہے؟ حکمت عملی تیار

تازہ ترین ویڈیو
23
امت مسلمہ کے ہیرو صلاح الدین ایوبی کے قول کے پیچھے چھپی سچی کہانی
27 2
یہ وہ جھوٹ ہے جوہر لڑکی ضرور بولتی ہے
2
کرونا وبا کب اور کیسے ختم ہو گی ؟ 1400 سال پہلے حضور اکرم ﷺ کی نشاندہی ، جان کر آپ پھولے نہ سمائیں گے
4 7
جھگڑالو بیوی نعمت خدا وندی مگر کیسے
3 9
کیسے لڑکیوں کو خواب دکھا کر تباہ کیا جاتا ہے ایک سچا واقعہ
52394
الطاف حسین نے آخری وقت میں ہندو مذہب کیوں اختیار کیا،کرونا سے ڈر کر یا ہندووں کی محبت میں

دلچسپ و عجیب
11
دفنانے کیلئے کئی بار قبر کھودی گئی مگر اندر ایک کالاسانپ نکلا
15 7
وہ سربراہ جسے دفنانے کیلئے کئی بار قبر کھودی گئی مگر اندر ایک کالاسانپ نکلا
9 1
کرونا وائرس کی وبا کے دوران میاں بیوی ازدواجی تعلقات قائم رکھ سکتے ہیں ؟
20 8
دریا ’’نیل‘‘ کے نیچے زیر زمین کونسا دریا بہتا ہے
Copyright © 2017 insafnews.pk All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Discaminer | Contact Us