18

وزیر اعظم ہاؤس بلا کر عمران خان مجھے کیا کہتے رہے؟ بشیر میمن کے تہلکہ خیز انکشافات


اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتےہوئےسابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے انکشاف کیا ہے کہ مجھے بلا کر کہا گیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف انکوائری کریں، میں نے کہا کہ میرے ٹی آر اوز میں یہ نہیں آتا، پولیس قانون نافذ کرنے

والا ادارہ ہے ہم غیرقانونی کام کیسے کرسکتے ہیں وہ بھی ایک جج کے خلاف۔وزیراعظم نے کہا محمد بن سلمان جو کہتا ہے وہ ہوتا ہے، میں نے کہا سعودی عرب میں بادشاہت ہے پاکستان میں جمہوریت ہے، پاکستان میں صرف گرفتار کرنا نہیں ہوتا جرم بھی ثابت کرنا ہوتاہے، یہ خواجہ آصف پر غداری کیس بناناچاہتے تھے۔سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے کہا کہ مجھے وزیراعظم ہاؤس بلا یا گیا جہاں ان سے ملاقات ہوئی، وزیراعظم نے کہا کہ آپ قابل افسر ہیں کام شروع کریں ہمت کریں آ پ کرسکتے ہیں، اس وقت تک مجھے نہیں پتا تھا کہ کیس کیا ہے۔شہزاد اکبر کے

کمرے میں گئے تو کہا گیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف کیس بنانا ہے اور انکوائری کرنی ہے، وہاں سے میں، اعظم خان اور شہزاد اکبر تینوں فروغ نسیم کے آفس گئے جہاں ڈاکٹر اشفاق بھی موجود تھے، او ای سی ڈی کا ڈیٹا ڈاکٹر اشفاق کے پاس تھا، ہم فروغ نسیم کے آفس گئے وہ بھی کنوینس تھے کہ ایف آئی اے یہ کیس بنائے، میں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے جج کیخلاف انکوائری ایف آئی اے کا نہیں سپریم جوڈیشل کونسل کا کام ہے، میں نے بہت سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ ہمارے ٹی آر اوز میں یہ نہیں آتا، انہو ں نے کہا کہ ایف بی آر اور آپ مل کر انکوائری کرو جسے میں نے مسترد کردیا۔ہائیکورٹ کا جج ایک آرڈر سے مجھے عہدے سے ہٹاسکتا تھا، مجھے پتا تھا

جیوڈیشل مجسٹریٹ سے سپریم کورٹ کے جج تک میں انکوائری نہیں کرسکتا، پولیس قانون نافذ کرنے والا ادارہ ہے وہ غیرقانونی کام اور وہ بھی ایک جج کے خلاف کیسے کرسکتا ہے ۔بشیر میمن نے بتایا کہ فروغ نسیم جسٹس فائز عیسیٰ کیخلاف منی لانڈرنگ کا کیس بناناچاہتے تھے، ان کا کہنا تھا کہ منی لانڈرنگ کا کیس کرنا آپ کا مینڈیٹ ہے، میرا موقف تھا کہ حکومت کے کہنے پر جج کیخلاف منی لانڈرنگ کا کیس نہیں کرسکتی،سپریم جوڈیشل کونسل ہی ہمیں کیس کرنے کیلئے کہہ سکتی ہے، اپنی قانونی ٹیم کے ساتھ مشاورت کی تو انہوں نے بھی کہا کہ میرا موقف درست ہے، پاکستان میں آئین او ر سپریم کورٹ ہے۔بحیثیت پولیس افسر تجربہ ہے کہ عدلیہ کے رولز ریگولیشن

میں ہم نہیں جاسکتے، میرا اختیار ہی نہیں تھا میں سمجھتا تھا اپنے ٹی او آرز سے آگے بڑھ جاؤں، ڈاکٹر اشفاق کا خیال تھا میں یہ کرسکتا ہوں میں نے کہا پھر آپ کریں، میں نے انہیں سمجھایا بھی کہ آپ اپنے ساتھ کیا کررہے ہو، اگر میں جھوٹ بول رہا ہوں تو اوپن انکوائری کروالیں ۔ شہزاد اکبر نے ایک مہینے بعد جسٹس فائز عیسیٰ اور ان کی فیملی کی ٹریولنگ ہسٹری کا پوچھا، میں نے کہا آپ نے ابھی تک جان نہیں چھوڑی ایسا مت کریں، وزیراعظم کی مجھ سے ناراضگی کی ایک وجہ یہ بھی تھی۔بشیر میمن نے بتایا کہ میں نے ریٹائرمنٹ سے پندرہ دن پہلے نوکری سے استعفیٰ دیا تھا، مجھے غلط او ایس ڈی بنایا گیا تھا حالانکہ پندرہ دن پہلے ٹرانسفر بھی نہیں کیا جاتا، مجھے پتا تھا میرا نقصان ہوگا اس کے باوجود استعفیٰ دیا۔



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


تازہ ترین خبریں
19
پی ٹی آئی نے بلوچستان حکومت سے علیحدگی پر غور شروع کر دیا
18
وزیر اعظم ہاؤس بلا کر عمران خان مجھے کیا کہتے رہے؟ بشیر میمن کے تہلکہ خیز انکشافات
17
بجلی سستی کیے جانے کا امکان
16
نواز شریف کے 3 قریبی ساتھی کس اعلیٰ شخصیت سے ملے؟ بڑی خبر
15
عید کے بعد کیا کرنا ہے؟ حکمت عملی تیار
14
الطاف حسین نے آخری وقت میں ہندو مذہب کیوں اختیار کیا

تازہ ترین ویڈیو
23
امت مسلمہ کے ہیرو صلاح الدین ایوبی کے قول کے پیچھے چھپی سچی کہانی
27 2
یہ وہ جھوٹ ہے جوہر لڑکی ضرور بولتی ہے
2
کرونا وبا کب اور کیسے ختم ہو گی ؟ 1400 سال پہلے حضور اکرم ﷺ کی نشاندہی ، جان کر آپ پھولے نہ سمائیں گے
4 7
جھگڑالو بیوی نعمت خدا وندی مگر کیسے
3 9
کیسے لڑکیوں کو خواب دکھا کر تباہ کیا جاتا ہے ایک سچا واقعہ
52394
الطاف حسین نے آخری وقت میں ہندو مذہب کیوں اختیار کیا،کرونا سے ڈر کر یا ہندووں کی محبت میں

دلچسپ و عجیب
11
دفنانے کیلئے کئی بار قبر کھودی گئی مگر اندر ایک کالاسانپ نکلا
15 7
وہ سربراہ جسے دفنانے کیلئے کئی بار قبر کھودی گئی مگر اندر ایک کالاسانپ نکلا
9 1
کرونا وائرس کی وبا کے دوران میاں بیوی ازدواجی تعلقات قائم رکھ سکتے ہیں ؟
20 8
دریا ’’نیل‘‘ کے نیچے زیر زمین کونسا دریا بہتا ہے
Copyright © 2017 insafnews.pk All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Discaminer | Contact Us