5 3

پاک فوج غیر جانبدار سے اچانک جانبدار اور زرداری راتوں رات سب سے ہلکے کیسے ہو گئے


لاہور (ویب ڈیسک) جبکہ یوسف رضا گیلانی ہار چکے ہیں، تو ان سے سوال کیا جا سکتا ہے کہ کیا فوج راتوں رات جانبدار ہو گئی تھی؟ اور اگر ایسا تھا تو اس کا جواب اب آپ کےپاس کیا ہے؟ میرا خیال ہے کہ گیلانی صاحب نے فوج کے بارے میں اپنے نقطہ ء نظر کی وضاحت کرتے ہوئے ’اب تک‘ کے جو الفاظ ایک صحافی کے سوال کے جواب میں ارشاد فرمائے تھے وہ انہوں نے اپنے

چیئرمین سے پوچھے بغیر فرما دیئے تھے۔نامور کالم نگار اور پاک فوج کے سابق افسر لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں۔ اب زرداری (جو ہر ایک پر بھاری ہیں) اپنے امیدوار سے باز پرس کرنے میں حق بجانب ہیں کہ اس سینیٹ الیکشن میں اسٹیبلشمنٹ کے بارے میں انہوں نے جو ریمارکس پاس کئے تھے، ان کی کیا ”تُک“ بنتی تھی؟سینیٹ کے انتخابات میں کامیابی کے بعد پی ٹی آئی حکومت کو سنجیدہ کاموں کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ لیکن مجھے خبر نہیں کہ

یہ ’احساس پروگرام‘ کے پردے میں بہت سے ایسے کام منظر عام پر کیوں آ رہے ہیں جن کو بڑی آسانی سے ”غیر سنجیدہ“ کہا جا سکتا ہے۔ اس فضول خرچی کے پیچھے کون ہے جو وزیراعظم کو مشورے دے رہا ہے کہ وہ لنگر خانے اور پناہ گاہیں وغیرہ کھولیں اور ملک کی غریب آبادی کو برسرِ روزگار بنانے کی بجائے اس کو گداگری کی راہ پر ڈال دے۔ وزیراعظم نے اس نئے احساس پروگرام کا نام ”کوئی بھوکا نہ سوئے“ رکھ دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی گزشتہ 73سالہ تاریخ میں قوم کا کوئی بھی فرد بھوکا نہیں سویا۔ اس کی ایک بڑی وجہ پاکستان کے وہ مخیر حضرات اور رفاہِ عامہ کے وہ ادارے ہیں جن کی خدا خوفی اور فیاضی نے ملک کےغریبوں کا تن اور من ڈھانپا ہوا ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ ہم پاکستانیوں

پر خدا کا یہ خاص کرم ہےکہ آج تک قوم کا کوئی بھی مرد یا عورت یا بچہ یا بوڑھا بھوک کے ہاتھوں زندگی کی بازی ہارتا ہوا نہیں دیکھا گیا۔لیکن عمران خان نے جس طرح خود کھانا تقسیم کرکے اس ’نئے پراجیکٹ‘ کا افتتاح کیا ہے وہ ایک قسم کا بازاری سٹنٹ معلوم ہوتا ہے۔ پاکستان کی غریب پبلک میں سب کو روکھی سوکھی کھانے کو مل جاتی ہے۔ لیکن وزیراعظم نے اپنے ہاتھوں سے جس کھانے کو تقسیم کرنے کی طرح ڈالی ہے، وہ مجھے اس لئے ’بازاری‘ (انگریزی زبان کا بازاری) لگی کہ ان کھانوں کو جو لوگ وصول کررہے تھے ان کے چہرے مہرے، لباس اور تن و توش بھوکے ننگوں جیسے نہیں تھے

…… اگر غریب آپ کو پاکستان میں کہیں نظر بھی آئیں گے تو وہ چولستان اور تھرپارکر (سندھ) کے وہ خاندان ہوں گے جن کی جھونپڑیاں دیکھ دیکھ کر ہول آنے لگتا ہے۔ ان کٹیاؤں کے مکین مرد و زن اور بچے بوڑھے سراپا مفلسی اور ناداری کا پیکر ہیں۔ وہاں سب سے بڑا مسئلہ پانی کی عدم فراہمی ہے۔



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


تازہ ترین خبریں
16 8
پیپلز پارٹی کا (ق) لیگ کے حوالے سے بڑا فیصلہ
15 10
پہلا روزہ اور عید کب ہوگی
14 11
2023ء میں پاکستان کا وزیر اعظم کون ہوگا؟ بڑی پیشگوئی
13 12
تنخواہوں میں بڑے اضافے کی تیاریاں
12 11
(ن) لیگ کا بلدیاتی اداروں پر کنٹرول بحال
11 11
بلاول بھٹو کو وزیر اعظم بنوانے کی کوششیں تیز

تازہ ترین ویڈیو
23
امت مسلمہ کے ہیرو صلاح الدین ایوبی کے قول کے پیچھے چھپی سچی کہانی
27 2
یہ وہ جھوٹ ہے جوہر لڑکی ضرور بولتی ہے
2
کرونا وبا کب اور کیسے ختم ہو گی ؟ 1400 سال پہلے حضور اکرم ﷺ کی نشاندہی ، جان کر آپ پھولے نہ سمائیں گے
4 7
جھگڑالو بیوی نعمت خدا وندی مگر کیسے
3 9
کیسے لڑکیوں کو خواب دکھا کر تباہ کیا جاتا ہے ایک سچا واقعہ
52394
الطاف حسین نے آخری وقت میں ہندو مذہب کیوں اختیار کیا،کرونا سے ڈر کر یا ہندووں کی محبت میں

دلچسپ و عجیب
15 7
وہ سربراہ جسے دفنانے کیلئے کئی بار قبر کھودی گئی مگر اندر ایک کالاسانپ نکلا
9 1
کرونا وائرس کی وبا کے دوران میاں بیوی ازدواجی تعلقات قائم رکھ سکتے ہیں ؟
20 8
دریا ’’نیل‘‘ کے نیچے زیر زمین کونسا دریا بہتا ہے
Copyright © 2017 insafnews.pk All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Discaminer | Contact Us