4 1

پاک فوج کے اس فوجی کی قبر کشائی کا واقعہ جس نے لاکھوں دل پلٹ کر رکھ دیئے


اسلام آباد(ویب ڈیسک ) اللہ کریم نے قر آن کریم میں ارشاد فرمایا ہے کہ شہیدوں کو مردہ مت کہو بلکہ وہ زندہ ہیں اور اپنے رب سے رزق پاتے ہیں مگر تم لوگوں کو اس کا ادراک نہیں ہو پاتا ۔ یوں تو شہدا کے اجسام کئی بار اس بات کا ثبوت دے چکے ہیں کہ واقعی زمین بھی ان کا جسم نہیں کھاتیمگریہ واقعہ جب پاکستان میں پیش آیا تووہاں موجود لوگوں کے دلوں میں اللہ رب العزت پر ایمان اور مضبوط ہو گیا ۔واقعہ کچھ یوں ہے کہ لانس نائیک محفوظ کی میت رات ایک بجے ان کے گھر پہنچی

جب گائوں کے لوگ سو رہے تھے۔ لانس نائیک محفوظ کے والد راجہ مہربان مویشیوں کی رکھوالی کی غرض سے کہیں اور سو رہے تھے۔ اس وجہ سے ماں نے ہاتھ میں لالٹین پکڑ پکڑ کر جب دروازہ کھولا تو اپنے دروازے پر ہجوم دیکھ کر حیران ہو گئیں۔ چند ایک لوگوں نے لانس نائیک محفوظ کی شہادت کی خبر دی جس پر ضبط کے تمام بند ٹوٹ گئے اور ماں کی آہ و بکا نے ماحول کو افسردہ بنا دیا۔ جیسے ہی راجہ مہربان کو بیٹے کی شہادت کا علم ہوا تو انہوں نے سنتے ہی بے ساختہ اللہ اکبر کہا اور بیٹے کی میت کو دیکھنے چلے آئے۔ تابوت کو چھوتے ہوئے کہنے لگے خدا کا شکر ہے کہ میرے بیٹے نے اپنے خاندان اور ساری قوم کی لاج رکھ لی۔ اسی روز بعداز نماز ظہر شہید کو ان کی آبائی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ خاندان کے افراد اور تمام گائوں والوں کی خواہش تھی کہ لانس نائیک محمد محفوظ کی لاش کو قبرستان سے نکال کر الگ دفن کیا جائے جہاں شایان شان مقبرہ تعمیر ہو۔ مقامی انتظامیہ کے لوگ اس

کے حامی نہ تھے لیکن مقامی علما کا تعاون خاندان والوں کو حاصل تھا۔ ان کا ایمان تھا کہ شہید کے جسد خاکی کو زمین کچھ نہیں کہہ سکتی اس لئے ان کے جسد خاکی کو نئی جگہ منتقل کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ بہرکیف چھ ماہ تیرہ دن بعد شہید کی قبر کی کھدائی شروع ہوئی حالانکہ گرمیوں کا موسم تھا لیکن اچانک آسمان پر بادل چھا گئے ٹھنڈی ہوا چلنے لگی۔ علماء کرام قبر کے قریب تلاوت قرآن پاک کر رہے تھے۔ قبر کے پاس جانے کی اجازت صرف شہید کے گھر والوں کو تھی۔ جب لاش نکالی جا رہی تھی تو تابوت سے خون کے تازہ قطرے ٹپک رہے تھے۔ گھر سے ایک برتن منگوایا گیا جو شہید کے خون سے بھر گیا جب قبر کھودی گئی تو دور دور تک فضا معطر ہو گئی۔ محمد محفوظ کے بھائی نے شہادت کے وقت اپنے بھائی کا دیدار نہ کیا تھا کیونکہ وہ اس وقت شمالی علاقہ جات میں فرائض کی انجام دہی کے لئے گئے ہوئے تھے۔ انہوں نے علما سے التجا کی کہ وہ اپنے شہید بھائی کا دیدار کرنا چاہتے ہیں۔ دوسروں کو کچھ نہ بتانے کی شرط پر انہیں چہرہ دیکھنے کی اجازت ملی۔ بعد میں والدہ کے کہنے پر بھائی نے بتایا کہ شہادت کے وقت محفوظ کی داڑھی نہ تھی لیکن چھ ماہ بعد شہید کی داڑھی تین انچ بڑی ہو چکی تھی۔ زخموں سے خون بہہ رہا تھا اور لاش پر ڈالی گئی پھولوں کی پتیاں بھی اسی طرح تر و تازہ تھیں چہرے پر زخموں کے باوجود بشاشت اور طمانیت کے آثار نمایاں تھے۔



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


تازہ ترین خبریں
2 دن اتنے بجے تک بند رہے گی،شہریوں کے لئے اہم خبر
2 دن تک بند رہے گی،شہریوں کے لئے اہم خبر
5 3
اڑھائی سال میں 14ہزار ارب کا قرضہ
4 2
52 فیصد پاکستانی آبادی ہائی بلڈ پریشر کا شکار
موبائل اکاؤنٹ
مافیاز نے لوگوں کے موبائل اکاؤنٹ سے پیسے نکلوانے کا نیا طریقہ ڈھونڈلیا
چینی
ایک اور چینی اسکینڈل
ٹرمپ
50فیصد تعلیمی وظائف پاکستانی خواتین کو دئیے جائیں ٹرمپ

تازہ ترین ویڈیو
سونا
سونا مزید سست
10
ایمان کو جھنجوڑ دینے والا واقعہ
27 2
یہ وہ جھوٹ ہے جوہر لڑکی ضرور بولتی ہے
14 6
28 لاکھ 70 ہزار فوج کیسے چند سالوں میں زمین بوس ہوگئی
5 4
عیسائی پادری نے امارات کو آئینہ دکھا دیا
مجرب وظیفہ تسبیح سے بندشریانیں بھی کھل جائیں

دلچسپ و عجیب
9 1
کرونا وائرس کی وبا کے دوران میاں بیوی ازدواجی تعلقات قائم رکھ سکتے ہیں ؟
35 2
کورونا وائرس کے ذریعے پوری دنیا میں کرفیو
20 8
دریا ’’نیل‘‘ کے نیچے زیر زمین کونسا دریا بہتا ہے
4 10
جو ں جوں وقت گزرتا جاتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ جو اللہ اوراس کے رسول نے کہا وہی درست ہے
28 6
سیاستدان سیاست میں آنے سے پہلے کیا کیا کرتے تھے
27 7
کرونا وائرس ,احتیاطوں کے ساتھ یہ تسبیحات روز کی جائیں، انتہائی مفید معلومات
13 6
پنڈتوں نے کورونا وائرس سے بھگوان کو بچانے کے لیے اُن کو ماسک پہنا دیا
11 6
ہم سب کے موبائل فون ”میرا جسم تیری مرضی“ سے لبالب
Copyright © 2017 insafnews.pk All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Discaminer | Contact Us
EnglishUrdu