8

پاک فوج کے افسران کو مراعات میں کتنے رہائشی اور کمرشل پلاٹس ملتے ہیںکتنے ایکڑ زمین دی جاتی ہے؟ تفصیلات سامنے آگئیں


اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سابق ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کے اثاثوں کی خبریں سوشل میڈیا پر آنے کے بعد سے ملک میں آرمی افسران کو ملنے والی مراعات اور ان کے اثاثوں سے متعلق ایک بحث چھڑ گئی ، تاثر یہ ہے کہ فوجی افسران کو دوران ملازمت اور ریٹائر منٹ کے بعد بھاری مراعات دی جاتی ہیں۔ جس میں پلاٹ، گھر ، رہائشی اور زرعی رقبے شامل ہیں۔حقیقت میں فوج افسران کی مراعات کا دارومدار ان کی سروس پر ہوتا ہے، جو افسر جتنا زیادہ

عرصہ فوج میں گزارتا ہے اس کی مراعات اسی مناسبت سے بڑھتی چلی جاتی ہیں، بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق فوجی افسر کو اپنی ملازمت کے پہلے ہی روز عسکری ہاؤسنگ سکیم کا حصہ بننے سے متعلق ایک فارم دیا جاتا ہے، اگر فوجی افسر اس سہولت کو اختیار کرلے تو اسے ایک لاکھ ڈاؤن پیمنٹ کے بعد ہاؤسنگ اسکیم کا حصہ بنادیا جاتا ہے جس کی باقی ادائیگی تنخواہ میں سے کٹوتی ہوتی رہتی ہے۔جیسے ہی افسر کی سروس 15 سال تک پہنچتی ہے افسر کی ترقی کا سفر اسے میجر کے رینک تک پہنچا دیتا ہے ، یہیں سے اس کی مراعات کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے اور وہ عسکری ہاؤسنگ سکیم میں ایک پلاٹ کا مالک بن جاتا ہے، 25 برس کی سروس ہونے پر اس کا رینک کرنل یا بریگیڈیئر تک پہنچ چکا ہوتا ہےاور تب یہ فوجی افسر دیگر مراعات کے ساتھ ساتھ دو رہائشی اور ایک کمرشل پلاٹ کا مالک بن جاتا ہے۔اس دوران اگر فوجی افسروار کورس کرلے تو اس کی مراعات دو کمرشل پلاٹس اور ایک رہائشی پلاٹ ہوجاتی ہیں اگر اس کے بعد فوجی افسر مزید ترقی کی منزلیں طے کرتا ہوا میجر جنرل بن جائے تو وہ ایک اور اضافی پلاٹ کا حقدار ٹھہرایا جاتا ہے اور لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر پہنچنے والے کو مختلف شہروں میں چار رہائشی اور کمرشل پلاٹ الاٹ ہوتے ہیں۔

مراعات کا سفر ابھی بھی ترقی کے سفر کے ساتھ جاری ہے، فوجی افسر لیفٹیننٹ جنرل کے بعد فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی پاتا ہے ، یہ افسر اگر اسی عہدے پر ریٹائر ہو تو اسے ان تمام پلاٹس کے ساتھ ساتھ سرکاری طور پر تین ذاتی ملازم دیئے جاتے ہیں جو تاعمران کے ساتھ رہتے ہیں، اگر لیفٹیننٹ جنرل کور کمانڈر کے عہدے پر فائز رہے ہوں تو انہیں ڈی ایچ اے کےنئے سیکٹر میں پلاٹ الاٹ ہوتا ہے۔اس کے بعد اگر فوجی افسر جنرل کے عہدے پر پہنچ جائیں تو ریٹائر ہونے پر وہ ایک ارب سے زائد کی مراعات کے حقدار ہوجاتے ہیں، انہیں عسکری ہاوسنگ سوسائیٹیز میں عہدے کے اعتبار سے گھر اور بنگلے بھی حاصل ہوتے ہیں، کرنل سے لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے سے ریٹائر ہونے کے بعد اسے اپنے عہدے اور سروس کی مناسبت سے زرعی زمین کا حقدار بھی ٹھہرایا جاتا ہے ، اس کو سرحدی علاقے کی زمین کہا جاتا ہے جو 99 سالہ لیز پر افسر کو فراہم کی جا تی ہے، یہ زمین تقریبا دو مربع تک ہوتی ہے۔



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


تازہ ترین خبریں
16 8
پیپلز پارٹی کا (ق) لیگ کے حوالے سے بڑا فیصلہ
15 10
پہلا روزہ اور عید کب ہوگی
14 11
2023ء میں پاکستان کا وزیر اعظم کون ہوگا؟ بڑی پیشگوئی
13 12
تنخواہوں میں بڑے اضافے کی تیاریاں
12 11
(ن) لیگ کا بلدیاتی اداروں پر کنٹرول بحال
11 11
بلاول بھٹو کو وزیر اعظم بنوانے کی کوششیں تیز

تازہ ترین ویڈیو
23
امت مسلمہ کے ہیرو صلاح الدین ایوبی کے قول کے پیچھے چھپی سچی کہانی
27 2
یہ وہ جھوٹ ہے جوہر لڑکی ضرور بولتی ہے
2
کرونا وبا کب اور کیسے ختم ہو گی ؟ 1400 سال پہلے حضور اکرم ﷺ کی نشاندہی ، جان کر آپ پھولے نہ سمائیں گے
4 7
جھگڑالو بیوی نعمت خدا وندی مگر کیسے
3 9
کیسے لڑکیوں کو خواب دکھا کر تباہ کیا جاتا ہے ایک سچا واقعہ
52394
الطاف حسین نے آخری وقت میں ہندو مذہب کیوں اختیار کیا،کرونا سے ڈر کر یا ہندووں کی محبت میں

دلچسپ و عجیب
15 7
وہ سربراہ جسے دفنانے کیلئے کئی بار قبر کھودی گئی مگر اندر ایک کالاسانپ نکلا
9 1
کرونا وائرس کی وبا کے دوران میاں بیوی ازدواجی تعلقات قائم رکھ سکتے ہیں ؟
20 8
دریا ’’نیل‘‘ کے نیچے زیر زمین کونسا دریا بہتا ہے
Copyright © 2017 insafnews.pk All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Discaminer | Contact Us