25

پہلی کورونا ویکسین آخرکار تیار ہوگئی


واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکا کی فائزر اور جرمنی کی بائیو این ٹیک نے سب سے پہلے 9 نومبر کو اپنی کورونا ویکسین کے انسانی ٹرائل کے تیسرے اور آخری مرحلے کے ابتدائی نتائج جاری کرتے ہوئے اسے بیماری سے تحفظ کے لیے 90 فیصد سے زیادہ موثر قرار دیا تھا۔اب یہ دنیا کی پہلی ویکسین بن گئی ہے جس کے آخری مرحلےکے ٹرائل کو مکمل کرکے حتمی نتائج جاری کردیئے گئے

ہیں اور اب یہ کمپنیاں امریکا کے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن سے ایمرجنسی استعمال کی منظوری حاصل کرنے کے لیے درخواست جمع کرائیں گی۔حتمی نتائج میں بتایا گیا کہ یہ ویکسین بیماری کی روک تھام میں 95 فیصد تک موثر ہے۔دونوں کمپنیوں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اتنا ڈیٹا موجود ہے جو یو ایس ڈرگ ریگولیٹر کی شرائط کو پورا کرسکتا ہے اور آئندہ چند روز میں ایمرجنسی استعمال کی منظوری کی درخواست جمع کرائی جائے گی۔گزشتہ ہفتے دونوں کمپنیوں نے تیسرے مرحلے کے ابتدائی نتائج میں کہا تھا کہ اس کی افادیت کی شرح 90 فیصد سے زیادہ ہے، جسے سائنسدانوں نے توقعات سے زیادہ قرار

دیا تھا۔ایک اور امریکی کمپنی جو فائزر ویکسین جیسی جینیاتی ٹیکنالوجی پر مبنی ویکسین استعمال کررہی ہے، نے رواں ہفتے اپنے ابتدائی نتائج میں بتایا تھا کہ اس کی ویکسین بیمااری سے تحفظ کے لیے 94.5 فیصد موثر ہے۔روس کی ویکسین کے ابتدائی نتائج گزشتہ ہفتے جاری ہوئے تھے جس میں اسے بیماری کے تحفظ کے لیے 92 فیصد مور قرار دیا گیا۔فائزر کے چیئرمین اور چیف ایگزیکٹیو البرٹ بورلا نے حتمی نتائج پر کہا ‘تحقیق کے نتائج 8 ماہ کے تاریخی سفر میں اہم سنگ میل ہے، جس سے جان لیوا وبا کو روکنے کے قابل ویکسین کو آگے لانے میں مدد ملی’۔ان کا کہنا تھا ‘ہم اس رفتار کو جاری رکھیں گے اور تمام تر ڈیٹا کو دنیا بھر کے ریگولیٹرز سے شیئر کیا جائے گا’۔امریکی اور جرمن کمپنیوں نے دنیا میں پہلی بار تجرباتی کورونا ویکسینکے آخری مرحلے کے حتمی نتائج جاری کیے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ توقع ہے کہ رواں سال ہی 5 کروڑ ڈوز تیار کرلیے جائیں گے۔خیال رہے کہ یہ ویکسین 2 ڈوز کے ذریعے استعمال کرائی جائے گی تو 5 کروڑ ڈوز ڈھائی کروڑ افراد کے لیے ہوں گے جبکہ اگلے سال یہ کمپنیاں ایک ارب 30 کروڑ ڈوز تیار کرنے کے لیے پرامید ہیں۔عالمی ادارہ صحت اور دیگر ریگولیٹرز نے کم از کم 50 فیصد افادیت والی کورونا ویکسینز کو موثر قرار دیا ہے، مگر ویکسینز کے حالیہ نتائج توقعات سے کافی زیادہ ہیں۔فائزر نے بتایا کہ مختلف عمروں، جنس اور اقلیتی گروپس میں اس کی ویکسین کی افادیت کا تسلسل یکساں رہا۔65 سال سے زائد عمر کے افراد جو اس بیماری کی سنگین شدت کے سب سے زیادہ

خطرے کی زد میں ہیں، ان میں ویکسین سے ملنے والا تحفظ 94 فیصد رہا۔اس ٹرائل میں 43 ہزار افراد شامل تھے اور 170 میں کورونا کی تشخیص ہوئی، جن میں سے 162 پلیسبو گروپ سے تعلق رکھتے تھے۔تحقیقی ٹیم کا کہنا تھا کہ ٹرائل میں 10 کیسز میں بیماری کی شدت سنگین تھی جن میں سے 9 پلیسبو گروپ اور ایک ویکسین گروپ میں شامل تھا۔انہوں نے کہا کہ تحقیق میں لوگوں کے تحفظ کے حوال سے کوئی نمایاں خدشات سامنے نہیں آئے، 8 ہزار افراد میں سائیڈ ایفیکٹس دیکھے گئے، مگر تھکاوٹ اور سردرد ہی سب سے زیادہ سنگین اثرات تھے۔خیال رہے کہ امریکی حکومت پہلے ہی ایک ارب 95 ارب ڈالرز کے عوض اس ویکسین کے 10 کروڑ ڈوز خرید چکی ہے جبکہ مزید 50 کروڑ ڈوز بھی خریدنے والی ہے۔



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


تازہ ترین خبریں
16 8
پیپلز پارٹی کا (ق) لیگ کے حوالے سے بڑا فیصلہ
15 10
پہلا روزہ اور عید کب ہوگی
14 11
2023ء میں پاکستان کا وزیر اعظم کون ہوگا؟ بڑی پیشگوئی
13 12
تنخواہوں میں بڑے اضافے کی تیاریاں
12 11
(ن) لیگ کا بلدیاتی اداروں پر کنٹرول بحال
11 11
بلاول بھٹو کو وزیر اعظم بنوانے کی کوششیں تیز

تازہ ترین ویڈیو
23
امت مسلمہ کے ہیرو صلاح الدین ایوبی کے قول کے پیچھے چھپی سچی کہانی
27 2
یہ وہ جھوٹ ہے جوہر لڑکی ضرور بولتی ہے
2
کرونا وبا کب اور کیسے ختم ہو گی ؟ 1400 سال پہلے حضور اکرم ﷺ کی نشاندہی ، جان کر آپ پھولے نہ سمائیں گے
4 7
جھگڑالو بیوی نعمت خدا وندی مگر کیسے
3 9
کیسے لڑکیوں کو خواب دکھا کر تباہ کیا جاتا ہے ایک سچا واقعہ
52394
الطاف حسین نے آخری وقت میں ہندو مذہب کیوں اختیار کیا،کرونا سے ڈر کر یا ہندووں کی محبت میں

دلچسپ و عجیب
15 7
وہ سربراہ جسے دفنانے کیلئے کئی بار قبر کھودی گئی مگر اندر ایک کالاسانپ نکلا
9 1
کرونا وائرس کی وبا کے دوران میاں بیوی ازدواجی تعلقات قائم رکھ سکتے ہیں ؟
20 8
دریا ’’نیل‘‘ کے نیچے زیر زمین کونسا دریا بہتا ہے
Copyright © 2017 insafnews.pk All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Discaminer | Contact Us