7 2

کرکٹ چھوڑنے والا پاکستانی کرکٹرپی ایس ایل کے’’ قلندرز ‘‘کا کپتان بن گیا


اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )‏لاہور قلندرز نے مایوس ہو کر کرکٹ چھوڑنے والے کو اپنی ٹیم کا کپتان بنا کر سب کو حیران کر دیا۔ لاہور قلندرز کی مینجمنٹ دو برسوں سے گروم کر رہی تھی، یقین ہے کہ لاہور قلندرز کی انتظامیہ نے جس اعتماد کا اظہار کیا ہے اس پر پورا اتروں گا۔ ‏ لاہور قلندرز نے پی ایس ایل فائیو کے ڈرافٹ کے موقع پر جارحانہ انداز میں بیٹنگ کرنے والے سہیل اختر کو جب کپتان مقرر کرنے کا اعلان کیاتو سب حیران رہ گئے، سب نے ایک دوسرے سے پوچھنا شروع کر دیا کہ سہیل اختر کون ہے اور وہ کیسے کپتان بن گیا جب کہ ٹیم میں دیگر سینئر اور تجربہ کار کرکٹرز بھی موجود ہیں لیکن لاہور قلندرز کی انتطامیہ نے ایک بار پھر اپنے پلئیرز ڈویلپمنٹ پروگرام پر اعتماد کا اظہار کیا اور اسی پلیٹ فارم سے جس کرکٹر کو انہوں نے موقع دیا اور اس نے اپنی شناخت بنائی اس کو قیادت سونپ دی۔ اس حوالے سے کپتان سہیل اختر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ میں تین برسوں سے لاہور قلندرز کے ساتھ ہوں، مینجمنٹ نے بہت حوصلہ افزائی کی، میں ٹیم کے ہمراہ آسٹریلیا گیا اور ابو ظہبی کپ میں بھی کپتانی کی اور جب ابوظہبی میں کامیابی حاصل کی تو مجھے اندازہ ہوا کہ لاہور قلندرز کی انتظامیہ مجھے کپتان کی حیثیت سے گروم کر رہی ہے۔ سہیل اختر نے کہا کہ قلندرز انتظامیہ نے مجھے دو برس تک گروم کیا اور جب کپتانی سونپنے کا وقت آیا تو مینجمنٹ نے مجھے کہا کہ وہ مجھے کپتان بنانا چاہتے ہیں تو کیا آپ تیار ہیں تو میں نے فوری ہاں کر دی اس لیے میرے لیے یہ سب حیران کن نہیں تھا، میں ذہنی طور پر تیار تھا۔انہوں نے کہا کہ مجھ پر کسی قسم کا دباؤ نہیں ہے اور نہ میں یہ سوچتا ہوں کہ میں پہلی مرتبہ اتنے بڑے ایونٹ میں قیادت کر رہا ہوں، میرے ساتھ سینئر کھلاڑی بھی موجود ہیں، مجھے سینئر کھلاڑیوں کی وجہ سے فائدہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ محمد حفیظ، سلمان بٹ اور فخر زمان میری مدد کے لیے ساتھ ہوں گے، ان کے ساتھ ٹریننگ کے دوران بھی بہت کچھ سیکھا ہے اور ٹورنامنٹ میں بھی فائدہ ہو گا۔کپتان لاہور قلندرز نے کہا کہ پی ایس ایل کی سب سے متحرک اور مقبول فرنچائز کی کپتانی کرنا میرے لیے فخر کی بات ہے، اب مجھے بس اعتماد پر پورا اترنا ہے اور یہی سوچ ہے کہ ٹیم کے لیے اچھے سے اچھا کرنا ہے۔ ‏کپتان سہیل اختر نے اپنے سفر کے بارے میں بتایا کہ میں نے تو مایوس ہو کر کرکٹ چھوڑی ہو ئی تھی، ایبٹ آباد ریجن میں مجھے مواقع نہ ملے، میں مایوس ہو چکا تھا، ایبٹ آباد ریجن کی تنزلی بھی ہو چکی تھی اور تین برسوں کے بعد مجھے گریڈ ٹو میں موقع ملا، اچھا کرنے میں کامیاب ہوا اور پھر لاہور قلندرز کے ساتھ جڑ گیا، مجھے موقع دیا گیا تو میں نے خود کو ثابت کیا۔ ان کا کہنا تھا جب کسی کھلاڑی پر اعتماد کیا جاتا ہے تو وہ اپنی محنت سے 20 سے 120 فیصد تک محنت کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے، لاہور قلندرز نے میری فٹنس اور میری خوراک پر کام کیا اور اسی کا مجھے اب فائدہ ہو رہا ہے۔



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


تازہ ترین خبریں
16 8
پیپلز پارٹی کا (ق) لیگ کے حوالے سے بڑا فیصلہ
15 10
پہلا روزہ اور عید کب ہوگی
14 11
2023ء میں پاکستان کا وزیر اعظم کون ہوگا؟ بڑی پیشگوئی
13 12
تنخواہوں میں بڑے اضافے کی تیاریاں
12 11
(ن) لیگ کا بلدیاتی اداروں پر کنٹرول بحال
11 11
بلاول بھٹو کو وزیر اعظم بنوانے کی کوششیں تیز

تازہ ترین ویڈیو
23
امت مسلمہ کے ہیرو صلاح الدین ایوبی کے قول کے پیچھے چھپی سچی کہانی
27 2
یہ وہ جھوٹ ہے جوہر لڑکی ضرور بولتی ہے
2
کرونا وبا کب اور کیسے ختم ہو گی ؟ 1400 سال پہلے حضور اکرم ﷺ کی نشاندہی ، جان کر آپ پھولے نہ سمائیں گے
4 7
جھگڑالو بیوی نعمت خدا وندی مگر کیسے
3 9
کیسے لڑکیوں کو خواب دکھا کر تباہ کیا جاتا ہے ایک سچا واقعہ
52394
الطاف حسین نے آخری وقت میں ہندو مذہب کیوں اختیار کیا،کرونا سے ڈر کر یا ہندووں کی محبت میں

دلچسپ و عجیب
15 7
وہ سربراہ جسے دفنانے کیلئے کئی بار قبر کھودی گئی مگر اندر ایک کالاسانپ نکلا
9 1
کرونا وائرس کی وبا کے دوران میاں بیوی ازدواجی تعلقات قائم رکھ سکتے ہیں ؟
20 8
دریا ’’نیل‘‘ کے نیچے زیر زمین کونسا دریا بہتا ہے
Copyright © 2017 insafnews.pk All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Discaminer | Contact Us