کورونا وائرس کے مریض کی ہولناک موت کا منظر


اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)بالکل سائیکو ہوگئی ہو! بیچ رات کو جب ڈاکٹر قرۃ العین خان افراتفری کے عالم میں اٹھیں تو انہیں دیکھ کر ان کے شوہر کے منہ سے بے ساختہ یہ الفاظ نکلے۔ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق36 سالہ اسسٹنٹ پروفیسر اس وقت کراچی کے ایک نجی ہسپتال کے ایک انتہائی نگہداشت یونٹ میں کام کررہی ہیں جہاں کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج معالجہ کیا جا رہا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ، ‘میں بار بار اپنے 8 سالہ بیٹے کی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر بخار چیک کرتی ہوں۔ اگر میرے شوہر بہت زیادہ کھانسنے لگتے ہیں توایک ہاتھ سے ان کی نبض چیک کرتی ہوں تو دوسرے ہاتھ سے ان کے منہ میں تھرمامیٹر ڈالتی ہوں۔ میرے شوہر مجھ سے کہتے ہیں کہ مجھے کوئی ہوش ہی نہیں رہتا لیکن انہیں یہ علم ہی نہیں کہ مجھے کیا کچھ معلوم ہے اور روزانہ میں کیا دیکھ کر آتی ہوں۔اگرچہ بے خوابی ڈاکٹر قرۃ العین کو رات میں زیادہ سونے نہیں دیتی مگر ان کی صبحیں بھی کچھ اچھی نہیں ہوتیں۔ گزشتہ 2 ماہ سے ان کی ہر صبح ‘پہلے سے زیادہ بھاری احساس کی کیفیت کے ساتھ ہوتی ہے۔ان کے ذہن کے کسی کونے میں یہی بات کھٹکتی رہتی ہے کہ

کہیں وہ خود بھی اس وبا کا شکار نہ بن جائیں مگر انہیں جو سب سے بڑا ڈر ستاتا ہے وہ یہ ہے کہ کہیں وہ اپنے شوہر اور بیٹے کو وائرس کا شکار بنانے کی وجہ نہ بن بیٹھیں۔ڈاکٹر قرۃ العین کہتی ہیں کہ ‘میرے شوہر اور بیٹا گزشتہ 2 ماہ سے گھر سے باہر نہیں نکلے اور ہم نے گھر کی ملازمہ کو بھی گھر آنے سے منع کردیا ہے۔ لہٰذا میں ہی گھر کی وہ واحد فرد ہوں جسے گھر سے باہر نکلنا ہوتا ہے اور اس لیے میں اس وائرس کی کیرئیر بن سکتی ہوں۔ڈاکٹر قرۃ العین کے والدین اسی شہر میں رہتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ قریب 2 ماہ سے ان سے نہیں ملی۔ ‘میں ان کے پاس نہیں جاسکتی اسی لیے میں ان سے فون پر بات کرلیتی ہوں اور بعض اوقات مجھ سے یہ سب برداشت نہیں ہوپاتا اس لیے رونا شروع کردیتی ہوں۔کلینکل ماہرِ نفسیات ڈاکٹر آشا بدر کے مطابق ’کئی ہیلتھ کیئر پرووائیڈرز (ایچ سی پی) یا شعبہ صحت سے وابستہ افراد یعنی ڈاکٹر، نرسیں اور فارما سوٹیکل عملہ اس سے پہلے بھی متعدد بار عوامی سطح پر ہنگامی حالات سے نبرد آزما ہوچکے ہیں لیکن موجودہ ہنگامی صورتحال ان سب سے یکسر مختلف اور نئی ہے۔ بگڑی صحت کے ساتھ مسلسل آنے والے مریضوں کو طبّی امداد پہنچانا اور پھر انہیں موت کے منہ میں جاتے دیکھنے کا تجربہ جنگی حالات میں کام کرنے کے تجربے سے کسی بھی طور پر کم نہیں۔ بس فرق اتنا ہے اس وقت دشمن سے فوجی سپاہی نہیں بلکہ خود ڈاکٹر ہی لڑ رہے ہیں اور ایسی صورتحال میں انہیں بھاری جسمانی اور نفسیاتی بوجھ اٹھانا پڑجاتا ہے۔ڈاکٹر قرۃ العین کہتی ہیں کہ انہیں خندقوں میں موجودگی کا احساس ہوتا ہے اور ان کی کیفیت بھی کچھ محاذ پر تعینات کسی فوجی سپاہی کی کیفیت جیسی ہوتی ہے۔ وہ ناخوش لہجے میں کہتی ہیں کہ ‘ مگر یہ محاذ کچھ مختلف ہے۔ شہدا کی بہادری کے عوض ان کے گھر والوں کو اعزاز و انعام سے نوازا جاتا ہے لیکن ہم اپنی موت کے ساتھ ساتھ اپنے گھر والوں کو بھی وائرس کا شکار بنا چکے ہوتے ہیں’۔لاہور میں واقع کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی (کیمو) کے شعبہ نفسیات کے پروفیسر ڈاکٹر علی مدیح ہاشمی کہتے ہیں کہ اس اضطراب سے گزرنے والی ڈاکٹر قرۃ العین اس شعبے کی واحد فرد نہیں ہیں اور تحقیق سے یہ بات ثابت بھی ہو رہی ہے۔شعبہ صحت سے وابستہ

افراد کو زبردست تناؤ اور تھکن کا سامنا ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں وہ ڈپریشن، انزائٹی (گھبراہٹ)، بے خوابی، یہاں تک کہ مابعد صدماتی تناؤ کے مسائل کا شکار ہوجاتے ہیں۔علاوہ ازیں شعبہ صحت سے وابستہ کئی افراد کو اس وقت ‘اخلاقی چوٹ کی تکلیف سے بھی گزرنا پڑتا ہے جب انہیں طبّی امداد کے قیمتی وسائل کی فراہمی کے وقت فیصلے لینا پڑجاتے ہیں۔ مثال کے طور پر وینٹی لیٹر کی کمی کے باعث ایک وقت ایسا بھی آجاتا ہے جب یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ کسے وینٹی لیٹر پر رکھا جائے اور کسے نہیں۔قریب سے موت کا ایسا منظر کبھی نہیں دیکھا۔مریضوں کو مرتے ہوئے دیکھنا کبھی آسان نہیں ہوتا۔ مگر حفاظتی کٹ اور دیگر ساز و سامان ناکافی ہونے کے باعث موت کے منہ میں جانے اور آپ کو وائرس منتقل کرنے والے شخص کے لیے خود کو خطرے میں ڈالنا پڑے، ایسی کسی صورتحال کے لیے شعبہ صحت سے وابستہ افراد کو تیار ہی نہیں کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر بدر کہتی ہیں کہ، ‘یہ لوگ روزانہ عام دنوں سے زیادہ تکلیف اور موت کو قریب سے دیکھ رہے ہیں۔ (اور خدا جانے کہ یہ سلسلہ کب تک جاری رہے) مگر انہیں یہ بھی علم ہے کہ ان کی اپنی اور ان کے گھر والوں کی صحت و زندگیاں خطرے سے دوچار ہیں۔ روزانہ اس قدر بھاری بوجھ کو برداشت کرنا بالکل بھی آسان نہیں ہوتا۔آغا خان یونیورسٹی سے بطور ایسوسی ایٹ پروفیسر وابستہ ڈاکٹر عائشہ میاں کہتی ہیں کہ ‘اس کے پیچھے غیر یقینی کی صورتحال، کنٹرول میں کمی، مکمل علم کا فقدان، الگورتھم کا نہ ہونا، ناکافی وسائل وغیرہ جیسی وجوہات کارفرما ہیں۔



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


تازہ ترین خبریں
5
راشد خان افغانستان میں موجود گھر والوں کی حفاظت سے متعلق پریشان
19
پی ٹی آئی نے بلوچستان حکومت سے علیحدگی پر غور شروع کر دیا
18
وزیر اعظم ہاؤس بلا کر عمران خان مجھے کیا کہتے رہے؟ بشیر میمن کے تہلکہ خیز انکشافات
17
بجلی سستی کیے جانے کا امکان
16
نواز شریف کے 3 قریبی ساتھی کس اعلیٰ شخصیت سے ملے؟ بڑی خبر
15
عید کے بعد کیا کرنا ہے؟ حکمت عملی تیار

تازہ ترین ویڈیو
23
امت مسلمہ کے ہیرو صلاح الدین ایوبی کے قول کے پیچھے چھپی سچی کہانی
27 2
یہ وہ جھوٹ ہے جوہر لڑکی ضرور بولتی ہے
2
کرونا وبا کب اور کیسے ختم ہو گی ؟ 1400 سال پہلے حضور اکرم ﷺ کی نشاندہی ، جان کر آپ پھولے نہ سمائیں گے
4 7
جھگڑالو بیوی نعمت خدا وندی مگر کیسے
3 9
کیسے لڑکیوں کو خواب دکھا کر تباہ کیا جاتا ہے ایک سچا واقعہ
52394
الطاف حسین نے آخری وقت میں ہندو مذہب کیوں اختیار کیا،کرونا سے ڈر کر یا ہندووں کی محبت میں

دلچسپ و عجیب
11
دفنانے کیلئے کئی بار قبر کھودی گئی مگر اندر ایک کالاسانپ نکلا
15 7
وہ سربراہ جسے دفنانے کیلئے کئی بار قبر کھودی گئی مگر اندر ایک کالاسانپ نکلا
9 1
کرونا وائرس کی وبا کے دوران میاں بیوی ازدواجی تعلقات قائم رکھ سکتے ہیں ؟
20 8
دریا ’’نیل‘‘ کے نیچے زیر زمین کونسا دریا بہتا ہے
Copyright © 2017 insafnews.pk All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Discaminer | Contact Us