ہمیں اللہ سے زیادہ ایک ڈکٹیٹر کا خوف ہے ،جسٹس فائز عیسیٰ کے ریمارکس


اسلام آباد ( آن لائن)سپریم کورٹ نے ڈی جی نیب راولپنڈی عرفان نعیم منگی کے تقرر اور اہلیت پر سوال اٹھادیا اورنیب کے تمام ڈی جیز کے تقرر سے متعلق تفصیلات طلب کرلیں۔عدالت عظمیٰ نے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے چیئرمین نیب کے افسران کی بھرتیوں کے اختیار کا نوٹس بھی لے لیا۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے نیب پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ نیب افسران کی نااہلی کی وجہ سے لوگ جیلوں میں سڑ رہے ہیں، ہمیں اللہ سے زیادہ ایک آمر کا خوف ہوتا ہے، ملک کو 2 حصوں میں تقسیم کردیا گیا ہے،ہر بندہ کرسی پر بیٹھ کر اپنا ایجنڈا چلا رہا ہے۔

بدھ کے روز سپریم کورٹ میں جسٹس مشیر عالم اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے نیب افسران کے نام پر پیسے لینے والے ملزم محمد ندیم کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔ سماعت کے آغاز پر تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے عرفان منگی سمیت مختلف افسران کو اہم شخصیات بن کر کالز کیں، ملزم کے خلاف نیب کی جانب سے مقدمہ درج کروایا گیا۔اس پر جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر عرفان منگی کو کال کی تھی تو انکا بیان کیوں ریکارڈ نہیں کیا گیا۔ جسٹس مشیر عالم نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ کیا ملزم کے فون کا فرانزک کروایا گیا، اس کیس میں ابھی تک کسی گواہ کا ابتدائی بیان ہی نہیں لیا گیا، جس پر تفتیشی افسر نے کہا کہ فرانزک کی ابھی تک رپورٹ نہیں آئی۔ ملزم کے وکیل ظفر وڑائچ نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکل کے خلاف بلاوجہ مقدمات بنائے جا رہے ہیں، کسی متاثر کا بیان ریکارڈ تک نہیں کیا گیا جبکہ پہلے نیب ریفرنس بنایا گیا پھر ایف آئی آر درج کروائی گئی۔سماعت کے دوران جسٹس مشیر عالم نے ریمارکس دیے کہ ہم سب ریاست کے ملازم ہیں، ہم سب نے مل کر قانون کی عملداری میں حائل قوتوں کا مقابلہ کرنا ہے، حکام کو قانون کے مطابق رائے دینا لا افسران کی ذمہ داری ہے۔ قانون کا وقار بحال کیے بغیر قانون کی عملداری قائم نہیں ہو سکتی۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ محمد ندیم مڈل پاس ہے اور تفتیش کے مطابق ملزم کے پاس صرف ایک بھینس ہے۔ ملزم کیسے بہاولپور سے

نیب افسر بن کر کال کرتا تھا، محمد ندیم نے ایم ڈی پی اس او کو ڈی جی نیب بن کر کال کی، ملزم کے پاس کیسے بڑے بڑے افسران کے نمبر آگئے؟اس پرنیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ایم ڈی پی ایس او سمیت 22 افراد کی مختلف شکایتیں ملیں اور پی ایس او کے ایم ڈی نے ڈی جی نیب عرفان منگی سے رابطہ کیاہے ۔پراسیکیوٹر کی بات پر عدالت عظمیٰ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پوچھا کہ عرفان منگی آپ کی تعلیم اور تنخواہ کیا ہے، جس پر انہوں نے عدالت کو جواب دیا کہ میں انجینئر ہوں اور میری تنخواہ 4 لاکھ 20 ہزار روپے ہے۔اس پر جسٹس فائز عیسیٰ نے پوچھا کہ کیا آپ فوجداری معاملات کا تجربہ رکھتے ہیںجس پرعرفان منگی نے جواب دیا کہ میرا فوجداری مقدمات کا کوئی تجربہ نہیں ہے ،جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایک انجینئر نیب کے اتنے بڑے عہدے پر کیسے بیٹھا ہوا ہے، نیب کیسے کام کررہا ہے۔نیب کا سیکشن 28 آئین کے آرٹیکل 240 سے متصادم ہے، چیئرمین نیب آئین اور قانون کو بائی پاس کرکے کیسے بھرتیاں کرسکتے ہیں۔ چیئرمین نیب کس قانون کے تحت بھرتیاں کرتے ہیں؟،عرفان منگی کس کی سفارش پر نیب میں گھس آئے، چیئرمین نیب اب جج نہیں، ہم انہیں عدالت بلاسکتے ہیں۔



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


تازہ ترین خبریں
19
پی ٹی آئی نے بلوچستان حکومت سے علیحدگی پر غور شروع کر دیا
18
وزیر اعظم ہاؤس بلا کر عمران خان مجھے کیا کہتے رہے؟ بشیر میمن کے تہلکہ خیز انکشافات
17
بجلی سستی کیے جانے کا امکان
16
نواز شریف کے 3 قریبی ساتھی کس اعلیٰ شخصیت سے ملے؟ بڑی خبر
15
عید کے بعد کیا کرنا ہے؟ حکمت عملی تیار
14
الطاف حسین نے آخری وقت میں ہندو مذہب کیوں اختیار کیا

تازہ ترین ویڈیو
23
امت مسلمہ کے ہیرو صلاح الدین ایوبی کے قول کے پیچھے چھپی سچی کہانی
27 2
یہ وہ جھوٹ ہے جوہر لڑکی ضرور بولتی ہے
2
کرونا وبا کب اور کیسے ختم ہو گی ؟ 1400 سال پہلے حضور اکرم ﷺ کی نشاندہی ، جان کر آپ پھولے نہ سمائیں گے
4 7
جھگڑالو بیوی نعمت خدا وندی مگر کیسے
3 9
کیسے لڑکیوں کو خواب دکھا کر تباہ کیا جاتا ہے ایک سچا واقعہ
52394
الطاف حسین نے آخری وقت میں ہندو مذہب کیوں اختیار کیا،کرونا سے ڈر کر یا ہندووں کی محبت میں

دلچسپ و عجیب
11
دفنانے کیلئے کئی بار قبر کھودی گئی مگر اندر ایک کالاسانپ نکلا
15 7
وہ سربراہ جسے دفنانے کیلئے کئی بار قبر کھودی گئی مگر اندر ایک کالاسانپ نکلا
9 1
کرونا وائرس کی وبا کے دوران میاں بیوی ازدواجی تعلقات قائم رکھ سکتے ہیں ؟
20 8
دریا ’’نیل‘‘ کے نیچے زیر زمین کونسا دریا بہتا ہے
Copyright © 2017 insafnews.pk All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Discaminer | Contact Us