15 دن پاکستانی سیاست کے لیے انتہائی اہم، پنڈی بوائے کیا کرنے والے ہیں


لاہور( نیوز ڈیسک) شیخ رشید پر بھی مشکل وقت آ گیا، چیف جسٹس گلزار احمد کے ریڈار پر وہ ایسے آئے ہیں کہ اب آسانی سے جان چھوٹتی نظر نہیں آ رہی۔ ساری زندگی دوستوں کی ڈگڈی بجاتے گذر گئی،اب اُن سے ریلوے کی حالت زار پر سوال ہوئے ہیں تو شیخ رشید احمد آئیں بائیں شائیں کر رہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق کالم نگار نسیم شاہ اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ ” چیف جسٹس گلزار احمد نے اُن کے بارے میں پہلے دن یہ دلچسپ جملہ کہا کہ وہ کہاں ہیں،جو آئے روز

حکومتیں بناتے اور گراتے ہیں،وہ ریلوے کی طرف توجہ نہیں دے سکتے تو اس کی جان چھوڑ دیں، پھر جب شیخ صاحب کو اگلے روز طلب کیا گیا تو چیف جسٹس نے اُنہیں اس بات پر آڑے ہاتھوں لیا کہ ریل گاڑی کے حادثے میں 78 افراد زندہ جل گئے،گارڈز اور ڈرائیور پر ذمہ داری ڈال کر آپ خاموش ہو گئے،کسی بڑے کو ذمہ دار قرار نہیں دیا؟ اس پر شیخ صاحب فوراً بولے کہ بڑوں کے خلاف بھی کارروائی ہو گی۔یہاں چیف جسٹس نے یہ کہہ کر انہیں لاجواب کر دیا کہ محکمہ ریلوے کے بڑے تو آپ ہیں، آپ کو ذمہ داری قبول کر کے فوری مستعفی ہو جانا چاہئے تھا۔کسی وزیر کے لئے سب سے بڑی ہزیمت یہ ہوتی ہے کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت کے چیف جسٹس اُسے یہ کہیں کہ اگر اسی کا محکمہ ایسے ہی چلناہے

تو پھر ہم اسے بند کر دیتے ہیں۔ پچھلے ڈیڑھ برس سے شیخ رشید احمد ریلوے کی ترقی کے بڑے بلند و بانگ دعوے کر رہے تھے،اب ایک ہی سماعت میں اُن کے دعوؤں کے غبارے سے ہوا نکل گئی ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ دُنیا میں بلٹ ٹرینیں چل رہی ہیں اور یہاں وہی دو سو سال پہلے کا ریلوے نظام جاری ہے،جس میں سفر کرنے والے ہر مسافر کی جان خطرے میں رہتی ہے، سہولتیں ندارد ہیں اورسفر ایک مصیبت بن چکا ہے۔ریلوے سٹیشنوں سے لے کر گاڑیوں تک کے حالات دِگر گوں ہیں،کوئی پوچھنے والا نہیں، اربوں روپے کا خسارہ اس پر مستزاد ہے۔ہم پہلے دن سے کہہ رہے ہیں کہ شیخ رشید احمد کو ریلوے کا وزیر بنا کر بہت بڑا ظلم کیا گیا ہے۔ ایک قومی ادارے کو ایسے شخص کے سپرد کر دیا گیا ہے، جس کی اُس میں کوئی دلچسپی ہے اور نہ تجربہ جو شخص سارا دن میڈیا پر آنے کے لئے بے تاب رہے،اُسے اپنے محکمے کی طرف توجہ دینے کی فرصت کہاں ہوتی ہے؟ جو زبانی جمع خرچ سے اپنا کام چلاتا ہو،اُس کی ہنڈیا تو اِسی طرح بیچ چوراہے کے پھوٹنی ہے،جیسے سپریم کورٹ میں اُن کی پھوٹی…… شیخ صاحب بڑے ذہین آدمی ہیں،انہیں پتہ ہے روزانہ ایک بیان وزیراعظم عمران خان اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی تعریف میں دے کر وہ محفوظ و مامون ہو جاتے ہیں۔انہیں کیا معلوم تھا کہ ایک چنگاری چیف جسٹس گلزار احمد کی شکل میں بھی موجود ہے، جو سارا کچا چٹھا کھول سکتی ہے۔ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو سپریم کورٹ نے ریلوے کی حالت ِ

زار بارے کیس کی سماعت کرتے ہوئے جو کچھ کہا ہے،وہ وزیراعظم عمران خان کے لئے ہے،کیونکہ ملک کے چیف ایگزیکٹو وہ ہیں۔اُن کا یہ کہنا بھی ایک طرح سے حکومت پر تنقید ہی ہے کہ اتنے سنگین حادثے کے باوجود کسی سے کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوئی،نہ ہی احتساب کیا گیا؟ کم از کم ریلوے کے وزیر سے تو استعفا لیا جانا چاہئے تھا۔



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


تازہ ترین خبریں
5
راشد خان افغانستان میں موجود گھر والوں کی حفاظت سے متعلق پریشان
19
پی ٹی آئی نے بلوچستان حکومت سے علیحدگی پر غور شروع کر دیا
18
وزیر اعظم ہاؤس بلا کر عمران خان مجھے کیا کہتے رہے؟ بشیر میمن کے تہلکہ خیز انکشافات
17
بجلی سستی کیے جانے کا امکان
16
نواز شریف کے 3 قریبی ساتھی کس اعلیٰ شخصیت سے ملے؟ بڑی خبر
15
عید کے بعد کیا کرنا ہے؟ حکمت عملی تیار

تازہ ترین ویڈیو
23
امت مسلمہ کے ہیرو صلاح الدین ایوبی کے قول کے پیچھے چھپی سچی کہانی
27 2
یہ وہ جھوٹ ہے جوہر لڑکی ضرور بولتی ہے
2
کرونا وبا کب اور کیسے ختم ہو گی ؟ 1400 سال پہلے حضور اکرم ﷺ کی نشاندہی ، جان کر آپ پھولے نہ سمائیں گے
4 7
جھگڑالو بیوی نعمت خدا وندی مگر کیسے
3 9
کیسے لڑکیوں کو خواب دکھا کر تباہ کیا جاتا ہے ایک سچا واقعہ
52394
الطاف حسین نے آخری وقت میں ہندو مذہب کیوں اختیار کیا،کرونا سے ڈر کر یا ہندووں کی محبت میں

دلچسپ و عجیب
11
دفنانے کیلئے کئی بار قبر کھودی گئی مگر اندر ایک کالاسانپ نکلا
15 7
وہ سربراہ جسے دفنانے کیلئے کئی بار قبر کھودی گئی مگر اندر ایک کالاسانپ نکلا
9 1
کرونا وائرس کی وبا کے دوران میاں بیوی ازدواجی تعلقات قائم رکھ سکتے ہیں ؟
20 8
دریا ’’نیل‘‘ کے نیچے زیر زمین کونسا دریا بہتا ہے
Copyright © 2017 insafnews.pk All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Discaminer | Contact Us