ملک میں جو کچھ ہوا اور جو کچھ ہو رہا ہے اس پر صرف اور صرف انا للہ و انا الیہ راجعون ہی کہا جا سکتا ہے


بشکریہ جاوید چوہدری
آصف علی زرداری کے دوست ڈاکٹر عاصم حسین 2012ء میں دہری شہریت کی وجہ سے سینٹ سے مستعفی ہو گئے‘ یہ زرداری صاحب کے انتہائی قریبی دوست تھے چنانچہ زرداری صاحب نے دوست کی نشست پر دوست کو بٹھا دیایوں سلیم مانڈوی والا سینیٹر بن گئے‘ آصف علی زرداری نے انہیں فروری 2013

میں چار ماہ کےلئے وزیر خزانہ بھی بنا دیا‘ یہ چار ماہ وزارت خزانہ کی تاریخ کا یاد گار ترین دورانیہ تھا‘وزارت میں اس دوران کیا کیا ہوتا رہا یہ آپ وزارت خزانہ کے لوگوں سے پوچھ لیں‘ آپ کے طوطے اڑ جائیں گے‘ اسلام آباد کے واحد فائیو سٹار مال کا سینما تک اس دور میں مانڈوی والا گروپ کو الاٹ ہواتاہم مال کو گیس کنکشن نگران وزیراعظم میر ہزار خان کھوسوکے صاحبزادے نے دلایا تھا‘ یہ ڈیل وزیراعظم آفس میں ہوئی تھی‘ مال کے مالکان نے گیس کنکشن کےلئے نگران وزیراعظم کے صاحبزادے کو کتنی رقم دی نیب وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو خط لکھ کر سارے ثبوت حاصل کر سکتا ہے‘نگران وزیراعظم نے 45 دنوں میں ساڑھے چار سال کے برابر کرپشن فرمائی‘ صرف کلاشنکوف کے 45 ہزار لائسنس جاری ہوئے اور ہر لائسنس کی ”فیس“ وزیراعظم آفس کے صوفوں پر وصول کی گئی ‘ لوگ بریف کیس کے ساتھ وزیراعظم آفس آتے تھے اور اپنا کام کروا کر چلے جاتے تھے‘ آپ کو یقین نہ آئے تو آپ ڈاکٹر مصدق ملک سے پوچھ لیجئے‘ یہ اس زمانے میں پانی اور بجلی کے نگران وزیر تھے لیکن یہ تمام بعد کی کہانیاں ہیں‘ ہم ابھی سلیم مانڈوی والا کے زمانے میں زندگی گزار رہے ہیں‘یہ حکومت کے خاتمے تک وزیر خزانہ رہے‘ حکومت کی مدت ختم ہوئی تو خزانہ بھی خالی تھا‘ دہشت گردی بھی روزانہ کی بنیاد پر ہو رہی تھی‘ بجلی کے گردشی قرضے بھی 480ارب روپے تک پہنچ چکے تھے‘

لوڈ شیڈنگ بھی 14گھنٹے ہوتی تھی اور پورا حکومتی نظام بھی دلدل میں پھنسی گاڑی بن چکا تھا۔سلیم مانڈوی والا مارچ 2015ئ میں دوسری بار سندھ سے سینیٹر منتخب ہوئے‘ آصف علی زرداری انہیں اس بار چیئرمین بنانا چاہتے تھے لیکن یہ کام پاکستان تحریک انصاف کے 13 ووٹوں کے بغیر ممکن نہیں تھا‘آصف علی زرداری نے شاہ محمود قریشی کے ذریعے ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن عمران خان نہ مانے‘ یہ پبلک اور میڈیا کے پریشر سے گھبرا رہے تھے‘ زرداری صاحب ہر صورت سلیم مانڈوی والا کو چیئرمین دیکھنا چاہتے تھے‘ یہ اس خواہش کی تکمیل کےلئے ایک سال سے کام کر رہے تھے‘ یہ نومبر 2016ئ میں میاں نواز شریف کی حکومت ختم کر سکتے تھے لیکن صرف سینیٹ کے الیکشنوں نے ان کا ہاتھ روکے رکھا‘ زرداری صاحب نے چیئرمین شپ کےلئے بلوچستان میں حکومت تبدیل کی‘یہ وہاں سے آٹھ آزاد سینیٹر بھی لے آئے‘ اسٹیبلشمنٹ نے اس سارے کارنامے میں بطور سہولت کار ان کا ساتھ دیااور یہ کے پی کے اسمبلی سے سات ایم پی ایز کے ساتھ دو سینیٹرز بھی نکال لائے لیکن یہ اس کے باوجود چیئرمین کےلئے ووٹ پورے نہ کر سکے‘ زرداری صاحب پی ٹی آئی کے ووٹ حاصل کرنا چاہتے تھے‘ پی ٹی آئی بھی انہیں ووٹ دینا چاہتی تھی لیکن یہ عوامی دبا? سے ڈرتی تھی چنانچہ پھر درمیان کا راستہ نکالا گیا‘دونوں پارٹیوں کو صادق ”فراہم“ کر دیا گیا‘آپ یہاں دلچسپ صورتحال ملاحظہ کیجئے‘ صادق سنجرانی کو آصف علی زرداری جانتے تھے اور نہ ہی عمران خان‘ بلوچستان کے آزاد

سینیٹرز اور وزیراعلیٰ بھی انہیں چیئرمین نہیں بنانا چاہتے تھے‘ یہ انوارالحق کاکڑ کو اس سیٹ پر دیکھنا چاہتے تھے‘ صادق سنجرانی نے خود بھی کبھی اس پوزیشن کا خواب نہیں دیکھا تھا‘ یہ سینیٹر بننے کے بعد داخلہ یا تجارت کی سٹینڈنگ کمیٹی کا چیئرمین بننا چاہتے تھے لیکن پھریہ اچانک سامنے آئے اور تمام فریقین نے ان کے نام پر اتفاق کر لیا ،لیکن اس اتفاق کے دوران آصف علی زرداری نے سلیم مانڈوی والا کےلئے ڈپٹی چیئرمین شپ لے لی‘ یہ ڈیل میاں نواز شریف کی وجہ سے پایہ تکمیل تک پہنچی‘ میاں نواز شریف نے رضا ربانی کا نام لے کر زرداری صاحب کےلئے آسانی پیدا کر دی‘ زرداری صاحب نے گیارہ مارچ کو واضح پیغام دے دیا ہمیں اگر اس ڈیل میں کچھ نہیں ملے گا تو ہم میاں نواز شریف کی پیش کش قبول کر لیں گے‘ ہم رضا ربانی کو امیدوار بنا دیں گے اور رضا ربانی فیصلہ ساز قوتوں کو قبول نہیں تھے،چنانچہ عمران خان نے سلیم مانڈوی والا کو ووٹ دینے کا فیصلہ کر لیا‘ آپ کےلئے شاید یہ بات اب حیران کن نہیں ہو گی پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم دونوں ”ٹیک اوور“ ہو چکی ہیں جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی الیکشن سے پہلے ”ٹیک اوور“ ہو جائے گی‘ نگران حکومت کونئی حلقہ بندیاں کر نی پڑیں گی‘ نئی حلقہ بندیوں کی وجہ سے الیکشن ایک سے دو ماہ لیٹ ہو جائیں گے‘نئی حلقہ بندیوں پر صرف ن لیگ کو اعتراض ہو گا‘ باقی جماعتیں خامو ش رہیں گی‘الیکشن کے دوران پاکستان پیپلزپارٹی‘ پاکستان تحریک انصاف‘ایم کیو ایم اور پاک سرزمین پارٹی کے درمیان سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہو گی اور اس ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے نتائج سینٹ کے الیکشنوں جیسے نکلیں گے‘سینٹ میں صادق سنجرانی کی شکل میں صادق آ چکا ہے جبکہ عام الیکشنوں کے بعد امین بھی سامنے آ جائے گا‘ پیپلزپارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کو نو نو وزارتیں مل جائیں گی‘ وزارت عظمیٰ بلوچستان کے امین کو مل جائے گی‘ سپیکر کے پی کے سے چن لیا جائے گا اور ڈپٹی سپیکر سندھ سے آ جائے گا‘ ن لیگ 75 ایم این ایز کے ساتھ اپوزیشن میں بیٹھ جائے گی‘

میاں نواز شریف جیل میں ہوں گے اور میاں شہباز شریف دو تین خوفناک مقدمات کے ساتھ ایک بار پھر وزیراعلیٰ پنجاب بن جائیں گے یوں نیا پاکستان شاہراہ ترقی پردوڑتا نظر آئے گامگر یہ مستقبل کا نقشہ ہے‘ ہم ابھی 2018ئ کے مارچ میں ہیں اور یہ مارچ آصف علی زرداری اور سلیم مانڈوی والا کا ہے۔ عمران خان تسلیم کریں یا نہ کریں لیکن یہ حقیقت ہے پاکستان تحریک انصاف نے سلیم مانڈوی والا کو ووٹ دے کر سیاسی حماقت کی انتہا کر دی‘ یہ اگر ڈیل تھی تو اس ڈیل کا صرف اور صرف ایک ونر ہے ،اور وہ ونر آصف علی زرداری ہیں‘ انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کے ووٹ لے کر عمران خان سے تمام گالیوں کا بدلہ لے لیا‘ پاکستان تحریک انصاف کا نیا پاکستان 12 مارچ 2018ئ کو پاکستان پیپلز پارٹی کے پرانے تابوت میں دفن ہو گیا‘ عمران خان اب اس لکیر کو جتنا چاہیں پیٹ لیں لیکن لاٹھی ٹوٹنے کے علاوہ کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا‘ آپ سیاسی حماقت دیکھئے آپ نے اپنے 13 ووٹ آصف علی زرداری کی جھولی میں ڈال دیئے لیکن آپ سینٹ میں اپوزیشن لیڈر کےلئے ایم کیو ایم کے در پر جانے پر مجبور ہو گئے‘کیایہ اصول ہیں‘ کیایہ سیاست ہے؟میں کہنے پر مجبور ہوں عمران خان نے اس ڈیل میں سیاست اور اصول دونوں ہار دیئے‘آپ نے اگر سیاست کی تھی تو آپ نے اس میں کیا پایا؟ اور آپ اگر اصولوں کی بات کرتے تھے تو آپ کے اصولوں نے ملک کی سب سے بڑی بیماری آصف علی زرداری کے امیدوار کو کیوں ووٹ دیئے؟ کیا پاکستان تحریک انصاف کے پاس اس سوال کا کوئی جواب ہے؟ پاکستان تحریک

انصاف قوم کی امید تھی‘ ملک میں پچاس سال بعدکسی تیسری قومی پارٹی نے جنم لیا تھا‘قوم دل سے اس تبدیلی پر خوش تھی لیکن افسوس صد افسوس تیسری پارٹی نے پہلی دو پارٹیوں کا کچرہ اکٹھا کر کے اور اپنی سیاسی حماقتوں کا انبار لگا کر پورے ملک کے خواب توڑ دیئے ‘ آپ آج پاکستان پیپلز پارٹی‘ پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف تینوں کو ایک قطار میں کھڑا کر دیجئے‘ آپ کو ان تینوں میں کوئی فرق نہیں ملے گا چنانچہ ملک میں جو کچھ ہوا اور جو کچھ ہو رہا ہے اس پر صرف اور صرف انا للہ و انا الیہ راجعون ہی کہا جا سکتا ہے‘ آپ دیکھتے جائیں‘ روتے جائیں‘ آگے بڑھتے جائیں اور اللہ سے توبہ کرتے جائیں اور بس۔





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


تازہ ترین خبریں
اب پچھتانے کے سوا کوئی چارہ نہیں
جون 2020 سے امارات واپس آنے کی اجازت
شوہر نے اپنی بیوی پر کوبرا سانپ پھینک کر اسے قتل کر دیا
طیارہ حادثے کا سارا ملبہ پائلٹ پر ڈال دیاگیا
معروف ماہر علم نجوم نے بڑی پیش گوئی کردی
چین نے بھارت کے ساتھ سرحد پر واقع متنازعہ علاقے پر کنٹرول حاصل کرلیا

تازہ ترین ویڈیو
شوہرکرنل بیوی سے بھی دو قدم آگے
جھگڑالو بیوی نعمت خدا وندی مگر کیسے
کیسے لڑکیوں کو خواب دکھا کر تباہ کیا جاتا ہے ایک سچا واقعہ
اپنے محمدؐ کو مدد کیلئے کیوں نہیں بلاتے
پریش راول نے اسلام قبول کر لیا ؟
کہیں عوام کو سستی دوا نہ مل جائےپاکستانی ڈاکٹر کی تیارکردہ کورونا کی ویکسین کی راہ میں ڈرگ مافیہ آڑے آگیا،سنیں ڈاکٹر کی زبانی

دلچسپ و عجیب
کرونا وائرس کی وبا کے دوران میاں بیوی ازدواجی تعلقات قائم رکھ سکتے ہیں ؟
کورونا وائرس کے ذریعے پوری دنیا میں کرفیو
دریا ’’نیل‘‘ کے نیچے زیر زمین کونسا دریا بہتا ہے
جو ں جوں وقت گزرتا جاتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ جو اللہ اوراس کے رسول نے کہا وہی درست ہے
سیاستدان سیاست میں آنے سے پہلے کیا کیا کرتے تھے
کرونا وائرس ,احتیاطوں کے ساتھ یہ تسبیحات روز کی جائیں، انتہائی مفید معلومات
پنڈتوں نے کورونا وائرس سے بھگوان کو بچانے کے لیے اُن کو ماسک پہنا دیا
ہم سب کے موبائل فون ”میرا جسم تیری مرضی“ سے لبالب
Copyright © 2017 insafnews.pk All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Discaminer | Contact Us
ArabicEnglishUrdu
error: Content is protected !!