کرونا وائرس کے خاتمے کے بعد کا انسان کیسا ہوگا، وہ کس قسم کی زندگی گزارے گ


اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )معروف سینئر کالم نگار یاسر پیرزادہ اپنے کالم ’’وبا کے بعد کی زندگی کیسی ہوگی؟‘‘میں لکھتے ہیں کہ۔۔۔فی الحال مگر سوال یہ ہے کہ اِس وبا کے خاتمے کے بعد کا انسان کیسا ہوگا، وہ کس قسم کی زندگی

گزارے گا اور یہ دنیا کیسی ہو گی؟ اگر یہ وبا آ ج سے دو لاکھ سال پہلے آئی ہوتی تو شاید اُس وقت کے انسان کی زندگی میں کوئی خاطر خواہ فرق نہ پڑتا، وہ ویسے ہی جنگلوں میں رہتا، اسی طرح پیڑ سے پھل توڑ کر کھاتا، حسبِ توفیق جانوروں کا شکار کرتا اور شام کواپنی مادہ سے بالوں کی جوئیں نکلواتا (یا ’vice versa‘)۔ آج کا انسان ایسے نہیں جی سکتا، کچھ دیر کے لیے ہم ماسک پہن لیں گے، گھروں میں بھی بیٹھ جائیں گے، ایک دوسرے سے ملنے میں بھی احتیاط برتیں گے مگر بالآخر تنگ پڑ جائیں گے، ہمیشہ کے لیے یہ طرزِ زندگی شاید ہمیں قبول نہ ہو۔ آخر ہم نے ومبلڈن دیکھنا ہے، فٹ بال کھیلنا ہے، اولمپک منعقد کروانا ہیں، دنیا کی رنگینیاں سمیٹنی ہیں، ملکوں ملکوں گھومنا ہے، اپنے رب کے گھر بھی حاضری دینی ہے، زیارتیں کرنی ہیں۔سب سے پہلی تبدیلی جس کے آثار ابھی سے نظر آنا شروع ہو گئے ہیں وہ ٹیکنالوجی کا استعمال ہے جو پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جائے گا۔ دو دن پہلے گوگل نے دنیا بھر کے ممالک کا ڈیٹا ویب سائٹ پر ڈالا جس سے پتا چلایا جا سکتا ہے کہ لاک ڈاؤن کے بعد لوگوں کی نقل و حرکت کس حد تک محدود ہوئی ہے، ظاہر ہے کہ گوگل کے پاس ان معلومات کی

رسائی ہے جو صارف کی نقل و حرکت سے متعلق ہیں، اِس سے اگلے مرحلے میں یہ ہوگا کہ حکومتیں اپنے شہریوں کی صحت کی حفاظت کی خاطر مزید ذاتی معلومات تک رسائی حاصل کریں گی تاکہ مستقبل میں وبا کو پھوٹنے سے روکا جا سکے۔ ایک آئیڈیا اِس خاکسار کے ذہن میں بھی آیا ہے کہ دنیا کی تمام حکومتیں عالمی ادارۂ صحت کے تعاون سے ایک ایسا مربوط ڈیٹا بیس تیار کریں جس میں وائرس سے متاثرہ اور صحت یاب ہونے والے لوگوں کا ڈیٹا ہو، انہیں ایک مخصوص نمبر دے دیا جائے جو اُن کی شناخت ہو، ویکسین ایجاد ہونے کے بعد باقی لوگوں کو بھی اِس ڈیٹا بیس میں شامل کر لیا جائے جو اِس بیماری سے محفوظ تصور کیے جائیں، پھر اِس ڈیٹا بیس کو موبائل ایپ کے ساتھ منسلک کر دیا جائے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ دنیا میں وائرس سے کتنی آبادی محفوظ ہے اور کتنی آبادی کو ابھی ویکسین کی ضرورت ہے۔ اِس ڈیٹا بیس سے عام لوگوں کو بھی پتا چل جائے گا کہ کسی اجتماع میں جانا محفوظ ہے یا نہیں، سفر کے دوران اذیت ناک اسکریننگ کی بجائے پاسپورٹ کے ساتھ صحت کا یہ نمبر بھی امیگریشن کاؤنٹر پر چیک کر لیا جائے کہ کہیں مسافر میں وائرس تو نہیں، بالکل ایسے جیسے کمپیوٹر میں اینٹی وائرس سافٹ ویئر ڈال کر کھنگالا جاتا ہے۔انسان کی زندگی کس قدر بےمعنی ہے یہ اِس وبا نے ایک مرتبہ پھر ہمیں سمجھا دیا ہے۔ جب سب کچھ دوبارہ سے واپس آئے گا تو زندگی کے متعلق ہمارے رویے تبدیل ہو چکے ہوں گے، ہم ایک ایسی دنیا میں واپس آئیں گے جو بالکل نئی ہو گی جس میں یہ حقیقت تسلیم کرنا

ہوگی کہ ’محفوظ مستقبل‘ نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی، آنے والا ہر لمحہ اگر آگہی کا سبب بنتا ہے تو ساتھ ہی ایک نامعلوم بلیک ہول کا در بھی کھول دیتا ہے۔ نامعلوم سے معلوم تک کا یہ سفر جاری رہے گا، انسان کی پیاس نہیں بجھے گی۔





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


تازہ ترین خبریں
اب پچھتانے کے سوا کوئی چارہ نہیں
جون 2020 سے امارات واپس آنے کی اجازت
شوہر نے اپنی بیوی پر کوبرا سانپ پھینک کر اسے قتل کر دیا
طیارہ حادثے کا سارا ملبہ پائلٹ پر ڈال دیاگیا
معروف ماہر علم نجوم نے بڑی پیش گوئی کردی
چین نے بھارت کے ساتھ سرحد پر واقع متنازعہ علاقے پر کنٹرول حاصل کرلیا

تازہ ترین ویڈیو
شوہرکرنل بیوی سے بھی دو قدم آگے
جھگڑالو بیوی نعمت خدا وندی مگر کیسے
کیسے لڑکیوں کو خواب دکھا کر تباہ کیا جاتا ہے ایک سچا واقعہ
اپنے محمدؐ کو مدد کیلئے کیوں نہیں بلاتے
پریش راول نے اسلام قبول کر لیا ؟
کہیں عوام کو سستی دوا نہ مل جائےپاکستانی ڈاکٹر کی تیارکردہ کورونا کی ویکسین کی راہ میں ڈرگ مافیہ آڑے آگیا،سنیں ڈاکٹر کی زبانی

دلچسپ و عجیب
کرونا وائرس کی وبا کے دوران میاں بیوی ازدواجی تعلقات قائم رکھ سکتے ہیں ؟
کورونا وائرس کے ذریعے پوری دنیا میں کرفیو
دریا ’’نیل‘‘ کے نیچے زیر زمین کونسا دریا بہتا ہے
جو ں جوں وقت گزرتا جاتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ جو اللہ اوراس کے رسول نے کہا وہی درست ہے
سیاستدان سیاست میں آنے سے پہلے کیا کیا کرتے تھے
کرونا وائرس ,احتیاطوں کے ساتھ یہ تسبیحات روز کی جائیں، انتہائی مفید معلومات
پنڈتوں نے کورونا وائرس سے بھگوان کو بچانے کے لیے اُن کو ماسک پہنا دیا
ہم سب کے موبائل فون ”میرا جسم تیری مرضی“ سے لبالب
Copyright © 2017 insafnews.pk All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Discaminer | Contact Us
ArabicEnglishUrdu
error: Content is protected !!