15 اپریل کو حکومت کی جانب سے روکا گیا تو ہمارا اگلا قدم کیا ہو گا ، تاجر برادری


کراچی (این این آئی) شہر کی چھوٹے تاجروں کی تنظیموں آل سٹی تاجر اتحاد ایسوسی ایشن، آل پاکستان ٹمبر ٹریڈرز ایسوسی ایشن ،آل ائرن اسٹیل مرچنٹ ایسوسی ایشن کے نمائندگان نے 15 اپریل کو دکانیں کھولنے اور حکومت کی جانب سے روکے جانے کی صورت میں وزیراعلی ہاؤس کا گھیراؤ کر نے کا اعلان کر

دیا ہے۔ مختلف تاجرتنظمیوں نے منگل کو علیحدہ علیحدہ پریس کانفرنس میں حکومت سے مطالبہ کیا کہ چھوٹے تاجروں کو ببھی ریلیف پیکج دیا جائے،یوٹیلٹیلٹی بلز اور نجی اسکولوں کی تین ماہ کی فیس ختم کرائی جائیں۔ آل سٹی تاجر اتحاد ایسوسی ایشن و چیئرمین آل پاکستانٹمبر ٹریڈرز ایسوسی ایشن شرجیل گوپلانی نے دیگر رہنمائوں زبیرعلی خان،احمدشمسی،عثمان صدیقی،چوہدری ایوب ودیگر کے ہمراہ اپنی پریس کانفرنس میں وزیراعظم پاکستان اور وزیر اعلیٰ سندھ سے اپیل کی ہے کہ موجودہ حالات میں کاروبار کی مکمل بندش کے باعث چھوٹے تاجر اور دکاندار حضرات اور تمام ٹیکس ادا کرنے والے تاجروں اور امپورٹرز کو فوری طور پر آسان اقساط پر بلاسودی قرضہ فراہم  کئے جائیں، ساتھ ہی ان تاجروں اور دکانداروں کواپنے ملازمین کو مارچ، اپریل اور مئی کے مہینوں کی تنخواہوں کے لیے مالی مدد  فراہم کی جائے اور تمام تاجروں کو فوری طور پر ایک ایک لاکھ روپے ماہانہ کی امداد دی جائے،کاروبار میں شناختی کارڈ کی شرط کو ایک سال کے لیے موخر کیا جائے، تمام ایڈیشنل اور ریگولیٹری ڈیوٹیز کو ختم کیا جائے، امپورٹرز اور دکانداروں کے لیے ہرقسم کے ود ہولڈنگ ٹیکس کو ختم کیا جائے، پورٹ پر امپورٹ ہونے والے ہزاروں کنٹینرز جو کہ ڈیمریج اور ڈٹینشن کی وجہ سے پھنسے ہوئے ہیں ان کے ڈیمریج اور ڈٹینشن کو فوری معاف کروایا جائے۔ محمد شرجیل گوپلانی نے کہا کہ کراچی کے تاجروں کی جانب سے کاروباری سرگرمیوں کو شروع کرنے کے لئے اپنی مدد آپ کے تحت اپنی مارکیٹوں میں واک تھرو گیٹ

جس سے آنے والے شخص کو اسپرے کے ذریعے اسٹیلائیز کرکے ہی مارکیٹ یا دکانوں میں داخل ہونے دیا جائے گااور اس کے ساتھ ہم نے اپنی دکانوں اور گوداموں کے باہر بیسن بھی تنصیب کرنے کا آغاز کیا ہے جبکہ وہاں سینٹائز بھی رکھا گیا ہے جبکہ دکانوں یا گوداموں میں داخل ہونے والے تمام کے لئے وہاں ماسک اور ہینڈ گلف بھی رکھیں گئے ہیں اس لئے سندھ حکومت اس پر کمشنر اور ڈپٹی کمشنرز کے ذریعے سروے کروائے اور جن جن مارکیٹوں میں اس طرح کے انتظامات مکمل ہوں ان کو کاروباری سرگرمیاں شروع کرنے کی اجازت دے۔انہوں نے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے بھی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ موجودہ حالات میں کاروبار کی مکمل بندش کو مدنظر رکھتے ہوئے چھوٹے تاجر اور دکاندار حضرات کی مالی مدد کریں، تاجر اپنے آفس، دکانوں اور مکانوں کے کرائے اور بل ادا نہیں کر سکتے، اس لئے مارچ، اپریل اور مئی کے مہینوں کے کرائے اور ان کے یوٹیلٹی بلز معاف کروائے جائیں، تاجروں کے بچوں کی مارچ، اپریل اور مئی کے مہینوں کی  اسکولوں کی فیسیں  معاف کروائی جائیں اور انہیں ملازمین کو مارچ اور اپریل کے مہینوں کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے مالی مدد کرتے ہوئے تمام تاجروں کو ایک ایک لاکھ روپے کی امداد دی جائے۔انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے بعد شہر بھر کے کاروباری اور تجارتی مراکز کی مکمل بندش نے اب غریب اور متوسط طبقے کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاروں کو بھی شدید مالی بحران

میں مبتلا کردیا ہے اور آج یہ صورتحال ہے کہ کاروباری اور تجارتی مراکز میں کام کرنے والے لاکھوں مزدوروں اور محنت کشوں کو تنخواہیں تک ادا کرنے کے لئے اب دکانداروں اور سرمایہ کاروں کے پاس اتنی رقم نہیں ہے کہ وہ ان کی تنخواہیں بھی ادا کرسکیں۔انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ مارکیٹوں میں کاروباری سرگرمیوں کو اگر شروع کرنا ہے تو ہم ایسی کون سی احتیاطی تدابیر کو اپنائیں کہ اس سے کرونا وائرس پھیلنے کے خطرات کا بھی خاتمہ ہو اور ان مارکیٹوں اور تجارتی مراکز میں دکاندار اپنا کاروبار بھی باآسانی کرسکیں اور اس میں ہم حکومت سندھ کے تعاون کے طلبگار ہیں۔شرجیل گوپلانی نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے شدید معاشی تباہی ہوئی ہے اس لئے  15 اپریل کو دکانیں کھول دی جائیں گی اوراگر حکومت کی جانب سے رو کا گیا تووزیراعلی ہاؤس کا گھیراؤ کیا جائے گا ۔منگل کو کراچی پریس کلب میں صدرآئرن اسٹیل مرچنٹ ایسوسی ایشن حماد پونا والا نے   پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے  وزیر اعظم کی جانب سے تعمیراتی صنعت کو دیئے گئے  ریلیف پیکج کو مسترد کرتے  ہوئے کہا کہ ریلیف پیکج میں چھوٹے تاجروں کو نظرانداز کردیا گیا  اوررِیلیف پیکج میں صرف بڑی صنعتوں کوہی شامل کیا گیا ہے ، سریااور لوہا  تعمیراتی شعبے کے لیئے اہم ہے لیکن وزیراعظم نے لوہا ،سیا،سیمنٹ کو ہینظر انداز کردیا۔ حماد پونا والا نے کہا کہ  حکومت  کے اقدامات کی مخالفت کرنے والوں کو وزیراعلیٰ ہائوس میں بلایا جاتا ہے   اور مذاکرات کئیجارہے ہیں ،حکومت کیا چاہتی ہے کہ کیا ہم بھی حکومت مخالف پالیسی اپنائیں ۔ حماد پونا والا  نے کہا کہ  کورونا وائرس سے قبل جو ایل سیز کھلوائیں تھیں ان پر بھاری جرمانہ لگ رہا ہے،بندرگاہ پر موجود درآمدی سامان پر بھاری ڈیمرج عائد کیا جارہا ہے ۔وزیراعظم وفاقی وزیر میری ٹائم افیئرز سید علی زیدی کو احکامات جاری کریں کہ ڈیمرج ختم کرایا جائے۔





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


تازہ ترین خبریں
لیموںکےپانی پینے انسانی جسم میں حیران کن تبدیلی
وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی اہلیہ کون ہیں
مرد حضرات خواتین کا سامنا کرنے سے گھبراتے ہیں
ن لیگی رہنما کورونا وائرس کا شکار ہوگئے
بھارت کے سابق کپتان انتقال کرگئے
لداخ میں جھڑپ کے بعد کشیدگی میں اضافہ

تازہ ترین ویڈیو
شوہرکرنل بیوی سے بھی دو قدم آگے
جھگڑالو بیوی نعمت خدا وندی مگر کیسے
کیسے لڑکیوں کو خواب دکھا کر تباہ کیا جاتا ہے ایک سچا واقعہ
اپنے محمدؐ کو مدد کیلئے کیوں نہیں بلاتے
پریش راول نے اسلام قبول کر لیا ؟
کہیں عوام کو سستی دوا نہ مل جائےپاکستانی ڈاکٹر کی تیارکردہ کورونا کی ویکسین کی راہ میں ڈرگ مافیہ آڑے آگیا،سنیں ڈاکٹر کی زبانی

دلچسپ و عجیب
کرونا وائرس کی وبا کے دوران میاں بیوی ازدواجی تعلقات قائم رکھ سکتے ہیں ؟
کورونا وائرس کے ذریعے پوری دنیا میں کرفیو
دریا ’’نیل‘‘ کے نیچے زیر زمین کونسا دریا بہتا ہے
جو ں جوں وقت گزرتا جاتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ جو اللہ اوراس کے رسول نے کہا وہی درست ہے
سیاستدان سیاست میں آنے سے پہلے کیا کیا کرتے تھے
کرونا وائرس ,احتیاطوں کے ساتھ یہ تسبیحات روز کی جائیں، انتہائی مفید معلومات
پنڈتوں نے کورونا وائرس سے بھگوان کو بچانے کے لیے اُن کو ماسک پہنا دیا
ہم سب کے موبائل فون ”میرا جسم تیری مرضی“ سے لبالب
Copyright © 2017 insafnews.pk All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Discaminer | Contact Us
ArabicEnglishUrdu
error: Content is protected !!