وادی جن جنس و نسل کی قید سے آزاد ہر فرد کو اپنی طرف متوجہ کئے ہوئے ہے


مدینہ منورہ سے شمال مغرب کی جانب35کلو میٹر کے فاصلے پر واقع مقام وادی جن جنس و نسل کی قید سے آزاد ہر فرد کو اپنی طرف متوجہ کئے ہوئے ہے۔ یوں تو عرب کے تپتے صحراوں میں بچھا ہوا سعو دی عرب ہر مسلما ن کے لئے تاریخی اور مذہبی حوالے سے بہت اہمیت رکھتا ہے مگر ہر سال یہاں حج و

دیگر ایام میں بھی عمرہ کی ادائیگی کے لئے دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں مسلمانوں کے لئے اپنے مذہبی فرائض کی انجام دہی کے علاوہ پر سراروادی جن کو دیکھنا اور اس کی حقیقت کے بارے میں جاننے کی جستجو اپنی جگہ موجود رہتی ہے۔ آپ گاڑی کے انجن کو بند کئے بنا اس کو وہاں سے گزاریں گے تووہ 100کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے زیادہ تیز نہیں چلے گی لیکن جب گاڑی کا انجن بند ہو اور اس کا گیئر نیوٹرل پر رکھا جائے تو وہ خود بخود 120کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے 14کلو میٹر کے فاصلے تک چلتی ہے۔وہاں کے مقامی لوگوں میں وادی جن کے حوالے سے مختلف باتیں زد عام ہیں کچھ کے نزدیک یہاں جنا ت رہتے ہیں جو کہ گاڑی یا وہاں پر رکھی کسی بھی چیز کو آگے کی طرف دھکیلتے ہیں اسی لئے اس وادی کو وادی جن کا نام دیا گیا ہے۔ عبیداللہ بن قبطیہ سے مروی ہے کہ حارث بن ربیعہ اور عبداللہ بن صفوان حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا کے پاس گئے اور میں بھی ان کے ہمراہ تھا۔ انہوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنھا سے اس لشکر کے متعلق دریافت کیا جو زمین میں دھنسا دیا جائے گا اور یہ ان دنوں کی بات ہے جب عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ مکہ کے حاکم تھے۔ ام سلمہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ہے: “ایک آدمی بیت اللہ میں پناہ لے گا تو ان کی طرف ایک لشکر بھیجا جائے گا جب وہ لشکر بیدا نامی جگہ پر پہنچے گا تو زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ میں نے کہا: یارسول اللہ ! جو زبردستی اس لشکر کے ساتھ (مجبور ہو کر) شامل ہوا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا “وہ بھی لشکر کے ساتھ زمین میں دھنسا دیا جائے گا مگر روز قیامت

اپنی نیت کے مطابق اٹھایا جائے گا۔
ابو جعفر فرماتے ہیں “بیدا مدینے کا ایک میدان ہے”
1930 میں جب سے یہ عجیب و غریب مقام دریافت ہوا ہے تب اس جادوگری کو دیکھنے کے لیے لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس طرف کا رخ کرتی ہے-(جس طرح ہمارے پاکستانی وادی بیدا کا رخ کرتے ہیں)۔ اور اب تک کئی لوگ اس بات کا سراغ لگانے کی کوشش کر چکے ہیں کہ آیا اس جگہ پر گاڑیاں کس طرح نیچے سے اوپر کی جانب جاتی ہیں۔ اکثر کا نظریہ ا س کے متعلق یہ ہی کہ اس پہاڑی کی روڈ پر مقناطیسی طاقت موجود ہے جو گاڑیوں کو اپنی طرف نیچے سے اوپر کھینچتی ہے۔ اسی لئے اس کا نام بھی مقناطیسی پہاڑی ہی رکھ دیا گیا ہے۔یقینا اصل راز سے تو اللہ کریم ہی جانتا ہے۔ کیونکہ اس میں کچھ نہ کچھ سچائی ضرور ہے۔ ایسے ہی یہ دو مقام مشہور نہیں ہوگئے۔لیکن اصل وجہ تو ہے۔





اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


تازہ ترین خبریں
تین سو یونٹس بجلی استعمال کرنے والوں کوریلیف دینے کابھی حکم
آپ سے سیاسی اختلاف اپنی جگہ پر آپ کی انسانیت کی خدمات کو سراہتا ہوں
2017ء میں انہوں نے کونسے کیس کا فیصلہ لکھا تھا جس پر تحریک انصاف، ایم کیو ایم، شیخ رشید احمد کو اعتراض تھا ؟وزیراعظم کو کس جان بوجھ کر کس کام کی طرف دھکیلا جارہا ہے ؟ حامد میر ک
وزیراعظم عمران خان نے بیس سال تک اسٹیبلشمنٹ کیخلاف جدوجہد کی او ر آخر میں انہی کے ہاں بیٹھ گئے ۔ معروف صحافی
سونے کی قیمت نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
وفاقی وزیر فیصل واوڈا کی تعلیمی اسناد مشکوک ، ٹیکس ادائیگی جھوٹ نکلی

تازہ ترین ویڈیو
ویرات کوہلی نے مسلمانوں کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے قرآن پاک کا اشتہار کرنے سے منع کیا تھا
ٹیکنالوجی کو استعمال کرکے نازیبا سیلفیز لینے کو بلاک کردیا
مولانا فضل الرحمان جب دھرنا دے کر پھنس گئے تھے انہیں چودھری برادران نے کیسے پتلی گلی سے نکالا
سندھ پولیس کے ڈی ایس پی کو بیٹے کا ولیمہ مہنگا پڑ گیا۔
ہر شخص کو اپنی بیوی کی بجائے ہمسائی کیوں زیادہ اچھی ؟ بیویوں سے بے نیاز شوہروں اور شوہروں سے عاجز بیویوں کے لیے ارشاد بھٹی کی خاص الخاص تحریر
ایک وفاقی وزیر کو پہلے ہی نیب انکوائری کا سامنا ہے

دلچسپ و عجیب
ماضی میں عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کے بارے میں کیا کہتے تھے
اب صرف ماں بہن کی گالی باقی ہے اور مجھے یقین ہے یہ پل بھی کسی دن عبور ہو جائے گا، جاوید چوہدری کا تجزیہ
ملک میں جو کچھ ہوا اور جو کچھ ہو رہا ہے اس پر صرف اور صرف انا للہ و انا الیہ راجعون ہی کہا جا سکتا ہے
اگر آپ مردانہ کمزوری سے پریشان ہیں تو اس کیلئے کسی مہنگی دوا کی ہرگز ضرورت نہیں،یہ نسخہ استعمال کریں
Copyright © 2017 insafnews.pk All Rights Reserved
About Us | Privacy Policy | Discaminer | Contact Us
error: Content is protected !!